پیپلز پارٹی کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے، مجھے مک مکا نظر آ رہا ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پیپلز پارٹی کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے، مجھے مک مکا نظر آ رہا ہے، اسد قیصر WhatsAppFacebookTwitter 0 7 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے، اگرچہ بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کے لیے بڑی خدمات ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں مجھے مک مکا نظر آ رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ افسوس ناک امر ہے کہ عدالتوں میں کیسز سیاسی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، جس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری جب کھڑے ہوئے تو پورا پاکستان ان کے ساتھ تھا، وہ ایک مثال ہیں۔کے پی کے ہاؤس میں پولیس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی مقامات پر اس قسم کی کارروائیاں نفرتیں بڑھانے اور فیڈریشن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ایسے رویے ملک میں تقسیم اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ حامد رضا نے بہت قربانیاں دی ہیں، ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کے کیسز جلد سنے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لارجر بینچ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونا بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ملک میں امن، انصاف اور قانون ناپید ہو چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ عدالتیں اپنے بنیادی کردار کی طرف لوٹیں اور ججز اپنے ضمیر کے مطابق کھڑے ہوں۔
سابق اسپیکر نے کہا کہ اگر ججز کھڑے ہوں گے تو پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ تمام سیاسی قوتوں، ججز اور سول سوسائٹی سے توقع ہے کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے متحد ہوں گے، کیونکہ یہی پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراستنبول مذاکرات: افغان سرزمین سے دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، پاکستان ستائیسویں ترمیم پر مشاورت کیلئے آج طلب کیا گیا وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی سینیٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیم پیش ہونے کے دن سینیٹرز کے اعزاز میں خصوصی ناشتہ ہوگا پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کا معاملہ، اسلام آباد پولیس کے پی ہاؤس پہنچ گئی سنی اتحاد کونسل کے چئیرمین صاحبزادہ حامد رضا گرفتار سی ڈی اے کے پارلیمنٹ میں تعینات سٹاف کو نکالنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں،ترجمان قومی اسمبلی چمن بارڈرپر فائرنگ، پاکستانی فورسز نے افغانستان کو بھر پورجواب دیا: وزارتِ اطلاعاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز