پاک ‘ بھارت جنگ میں 8 طیارے مار گرائے گئے‘ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251107-01-14
میامی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں طیارے گرائے جانے کی تعداد کے متعلق پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت میں 8 طیارے گرائے گئے۔ میامی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ پاک بھارت جنگ کے دوران میں نے سنا کچھ اخبارات میں آیا کہ 7 یا 8 طیارے گرائے گئے، ایک اخبار نے لکھا کہ 7 طیارے گرائے گئے، ایک کو نقصان پہنچا، کسی اخبار کا نام نہیں لوں گا، زیادہ تر جھوٹی خبریں دیتے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ مگر حقیقت میں پاک بھارت جنگ کے دوران 8 طیارے گرائے گئے، دونوں ایٹمی ممالک کی جنگ ٹیرف کی مدد سے روکی، دیکھتے ہیں زہران ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں، ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نیویارک کے لوگوں نے بائیں بازو کے زہران ممدانی کو میئر منتخب کر کے امریکا کی خودمختاری کھو دی ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایک کمیونسٹ امریکا کے سب سے بڑے شہر کا میئر بن گیا ہے، دیکھتے ہیں وہ کیسے اقدامات کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طیارے گرائے گئے بھارت جنگ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔