حقائق کی تصحیح: پاکستان بھارت جنگ میں بھارت کے آٹھ طیارے گرے تھے
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سٹی42: : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 6 مئی سے 10 مئی تک پاکستان اور بھارت کی 90 گھنٹے کی جنگ کا ذکر چھیڑ کر اپنے "دفاعی اتحادی" کی دھوتی بیچ بازار کھول دی۔ اس بار صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان نے جنگ میں آٹھ طیارے گرائے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی کی جنگ اور حالیہ پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران آٹھ (8)طیارے گرائے گئے۔
واٹس ایپ صارفین کیلئے خوشخبری ,اب بغیر فون نکالے ایپ استعمال کرنا ممکن
ایک تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ “کچھ اخبارات میں آیا کہ سات یا آٹھ طیارے گرائے گئے، میں کسی اخبار کا نام نہیں لوں گا، کیونکہ زیادہ تر جھوٹی خبریں دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے دوران آٹھ (8)طیارے گرائے گئے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ کرو گے تو ہم تجارت نہیں کریں گے، جس پر دونوں ملک امن پر رضامند ہوئے۔
یوٹیوبرڈکی بھائی کےمقدمہ میں مبینہ رشوت لینےوالےافسران نےاستعفے دیدیئے
ٹرمپ نے اپنا نیریٹیو دہراتے ہوئے کہا، اپنی صدارت کے دوران محض آٹھ ماہ میں میں نے آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کی قیادت میں امریکہ نے مختصر مدت میں کئی تنازعات ختم کیے۔
چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جس وقت بھارت نے پاکستان کی چھ شہروں میں سویلین مساجد پر میزائل مارنے کے لئے درجنوں طیارے اڑائے تھے، پاکستان ائیر فورس نے اس جسارت کا سختی سے جواب دیا، سخت ڈوگ فائٹ ہوئی اور پاکستان نے دشمن کے کئی طیارے گرا دیئے؛ یہ طیارے کتنے تھے؟ دنیا کی سب سے بڑی پاور کے پریذیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ آج انکشاف کر رہے ہیں کہ انڈیا کے گرائے گئے طیارے آٹھ تھے۔ اس جنگ مین پاکستان ائیر فورس کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ پاکستان کے دفاعی ذرائع اور وزیر دفاع کے ساتھ وزیر اعظم بھی یہ بتا چکے ہیں کہ اس رات پاکستان جارحیت کرنے والے دشمن کا بہت زیادہ نقصٓن کر سکتا تھا لیکن پاکستان نے ریسٹرین سے کام لیا تھا اور صرف پاکستانی حدود کے اندر آنے کی جسارت کرنے والے طیاروں کا پیچھا کر کے انہین مار گرایا تھا لیکن اندیا کی حدود کے اندر بہت گہرائی مین جا کر کارروائی کرنے سے گریز کیا تھا، حالانکہ پاکستان ائیرفورس کے جوان ایسا کر سکتے تھے۔
اپٹما نے وزارت فوڈ سکیورٹی کے خلاف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خط لکھ دیا
اس ڈوگ فائیٹ کے دو دن بعد جب بھارت نے اپنی شرم ناک شکست کا بدلہ لینے کی غرض سے پاکستان ائیر فورس کے تین ائیر بیسز پر میزائل مارنے کی کمینی حرکت کی تو پاکستان نے شدید غصے کے ساتھ اس کا جواب دیا اور بھارت کے اندر میزائلوں سے اور ورکنگ باؤنڈری، لائن آف کنٹرول پر توپوں سے حملے کر کے بھارت کو بھیانک سزائیں دیں۔ اس جواب کا سائیبر وار پہلو بھارت کے لئے تباہ کن اور دنیا کے لئے حیران کن تھا، پاکستان نے ڈھائی گھنتوں کے رسپانس میں بھارت کو مفلوج کر ڈالا تھا۔ اور اس کے بعد حملے روک کر دنیا سے کہا تھا کہ بھارت کو سمجھائین کہ مل چکی سزا پر صبر کرے۔ بھارت نے پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشورے پر یہ ہی کیا کہ مل چکی بھیانک سزا پر صبر کیا، کیونکہ صبر نہ کرتا تو پاکستان دس مئی کی صبح بھارت کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے لئے مکمل تیاری کئے بیتھا تھا۔
پنجاب حکومت کے نئے پنشن رولز سے متعلق کیس کی سماعت,جواب طلب
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان ائیر طیارے گرائے ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان نے بھارت کو کے لئے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔