حقیقت میں پاک بھارت جنگ میں 8 طیارے گرائے گئے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران میں نے سنا کچھ اخبارات میں آیا کہ 7 یا 8 طیارے گرائے گئے۔
میامی میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ 7 طیارے گرائے گئے، ایک کو نقصان پہنچا، کسی اخبار کا نام نہیں لوں گا، زیادہ تر جھوٹی خبریں دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مگر حقیقت میں پاک بھارت جنگ کے دوران 8 طیارے گرائے گئے، دونوں ایٹمی ممالک کی جنگ ٹیرف کی مدد سے روکی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں ظہران ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں، ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک کے لوگوں نے بائیں بازو کے ظہران ممدانی کو میئر منتخب کر کے امریکا کی ’خودمختاری‘ کھو دی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایک کمیونسٹ امریکا کے سب سے بڑے شہر کا میئر بن گیا ہے، دیکھتے ہیں وہ کیسے اقدامات کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طیارے گرائے گئے امریکی صدر نے کہا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔