امریکا میں نئی تاریخ رقم، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
امریکا میں نئی تاریخ رقم، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
نیویارک:(آئی پی ایس)
امریکی شہر نیویارک سٹی کی میئر شپ کے لیے ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ مسلمان امیدوار ظہران ممدانی نے میدان مار لیا۔
امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کم عمر اور کسی مسلمان امیدوار نے یہ عہدہ حاصل کیا ہے، 34 سالہ ظہران ممدانی نے اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق 49.
کوومو کو بھی کرٹس سلوا کی موجودگی سے نقصان پہنچا، جو ممدانی اور کوومو سے پیچھے رہنے کے باوجود دو ہندسوں میں ووٹ حاصل کرتے رہے، جس سے ممدانی کو ممکنہ طور پر فائدہ ہوا۔
نیو یارک سٹی کی میئرشپ کے لیے ظہران ممدانی کی جیت کی اطلاع ڈیسک ایچ کیو نے دی۔
ممدانی نے اپنے انتخابی منشور میں کرایوں کو منجمد کرنے، شہر کے زیرِ انتظام گروسری اسٹورز قائم کرنے اور بسوں کو مفت کرنے جیسے وعدے کیے ہیں، جس کے بعد وہ ترقی پسند حلقوں میں ایک آئیکن بن گئے ہیں۔
ممدانی نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نیو یارک آئے تو ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔
سابق گورنر کوومو نے ریاست اور اس کے باہر کے اہم ڈیموکریٹس سے حمایت حاصل کی تھی اور انہیں ایک مضبوط حریف سمجھا جا رہا تھا، لیکن ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات اور کووڈ-19 کے دوران نرسنگ ہومز میں ہونے والی اموات پر مبینہ بد انتظامی کے الزامات کے سبب ان کی مہم متاثر ہوئی۔
امریکہ کے ریاستی اور مقامی انتخابات میں لاکھوں افراد نے ووٹ ڈالا اور 1969 کے بعد پہلی مرتبہ 2 ملین سے زائد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
ورجینیا میں، ڈیموکریٹ ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ونسوم ارل-سیئرز کو شکست دی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ممدانی جو ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، آزاد امیدوار اینڈریو کوومو اور ریپبلکن کرٹس سلوا کو شکست دے کر جیتتے ہیں تو وہ نیو یارک سٹی کی وفاقی فنڈنگ کو روک دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجی ٹی روڈ ترنول پر غیر قانونی مونو لنتھ کے خلاف ایم سی آئی اور ڈی ایم اے کی کارروائی میئر نیویارک کا انتخاب: بیلٹ پر ممدانی کا نام 2 مرتبہ آنے پر ایلون مسک کی تنازع کھڑا کرنیکی کوشش نیویارک کے ممکنہ مسلمان میئر ظہران ممدانی کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟ عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں افراتفری کی پوری ذمہ داری نیدرلینڈز پر عائد ہے، چینی وزارت تجارت غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے امریکا نے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لی سوڈان میں جنگی جرائم کا خدشہ، عالمی فوجداری عدالت کا سخت انتباہ استنبول میں اسلامی ممالک کا اجلاس: غزہ سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔