نیویارک میں میئر کے الیکشن کے لیے پولنگ جاری، ظہران ممدانی کو برتری حاصل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نیو یارک میں میئر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، اور ووٹرز میں بھرپور جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔
مسلمان امیدوار ظہران ممدانی اس مقابلے میں سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میئر شپ کے امیدوار زہران ممدانی کی پرتعیش شادی تقریب، نظریات پر سوال اٹھنے لگے
سروے کے نتائج کے مطابق مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کی پوزیشن مضبوط نظر آ رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو کی کھل کر حمایت کی ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کے بعد تینوں صدارتی انتخابات میں نیویارک شہر میں بھاری فرق سے شکست کھائی تھی، لیکن 2024 میں انہوں نے 2016 اور 2020 کے مقابلے میں فرق نمایاں طور پر کم کردیا، اور 30 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، جو 1988 کے بعد کسی بھی ری پبلکن کے لیے پہلی بار ہوا۔
عمومی طور پر نیویارک شہر ڈیموکریٹس کے حق میں جھکا ہوا ہے، اس لیے ظہران ممدانی کی مہم نے اینڈریو کومو کو ٹرمپ کا نمائندہ ظاہر کرنے پر زور دیا ہے۔
ظہران ممدانی کو اس دوڑ کے دوران سیاسی کشیدگی کے ماحول میں موت کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔
نیویارک میں میئر کے انتخاب کا پس منظر امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے جڑا ہوا ہے۔ ستمبر میں ایک ٹیکساس کے شخص کو ظہران ممدانی کے خلاف دہشت گردانہ دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ظہران ممدانی جیتے تو کیا ہوگا؟ ٹرمپ نے دھمکی دے دی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک کے میئر کے انتخاب میں 4 نومبر کو کامیاب ہوگئے تو وہ شہر کی وفاقی فنڈنگ میں کمی کر دیں گے۔
انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کریں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت جاتے ہیں، تو یہ انتہائی غیر ممکن ہے کہ میں وفاقی فنڈز فراہم کروں، سوائے ان رقوم کے جو قانوناً دینا لازم ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی ڈیموکریٹک اکثریت والے علاقوں میں جاری منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز اور گرانٹس میں کمی کی کوشش کرتی رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں ظہران ممدانی کو اپنے حریف اینڈریو کومو پر برتری حاصل ہے، جو ڈیموکریٹک پرائمری میں ممدانی سے شکست کے بعد اب آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں، جبکہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا تیسرے نمبر پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میئر کے لیے امیدوار ظہران ممدانی اور امریکی صدر ٹرمپ آمنے سامنے
نتائج کب آئیں گے؟
عام طور پر نیویارک میں میئر کے انتخابات کے نتائج جلد آ جاتے ہیں، لیکن اس بار چونکہ 2 امیدوار زیادہ تر ڈیموکریٹ ووٹروں کی حمایت کے لیے مقابلہ کررہے ہیں، نتیجہ آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ 2021 میں ایڈمز کو پولز بند ہونے کے فوری بعد ہی فاتح قرار دیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews برتری حاصل پولنگ جاری ظہران ممدانی میئر الیکشن نیویارک وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولنگ جاری میئر الیکشن نیویارک وی نیوز میئر کے انتخاب اینڈریو کومو میں میئر کے کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔