ظہران ممدانی میئر بنے تو نیویارک کو فنڈز دینا مشکل ہوگا، ٹرمپ کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
امریکی صدر نے اپنے انٹرویو میں بالواسطہ طور پر اینڈریو کومو کی حمایت بھی کر دی۔ ان کا کہنا تھا اگر انتخاب ایک برے ڈیموکریٹ اور ایک کمیونسٹ کے درمیان ہے تو میں ہمیشہ برے ڈیموکریٹ کو ترجیح دوں گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ظہران ممدانی نیویارک کے میئر منتخب ہوئے تو ان کے لیے نیو یارک شہر کو وفاقی فنڈز دینا مشکل ہو جائے گا۔ اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر نیویارک کو کوئی کمیونسٹ چلائے گا تو وہاں فنڈ بھیجنا صرف پیسوں کا ضیاع ہوگا۔ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کا موازنہ سابق میئر بل ڈی بلاسیو سے کیا، انہوں نے کہا کہ بل ڈی بلاسیو ناکام میئر تھا، لیکن ظہران ممدانی اس سے بھی زیادہ خراب کارکردگی دکھائے گا۔ ٹرمپ نے انٹرویو میں بالواسطہ طور پر اینڈریو کومو کی حمایت بھی کر دی۔ ان کا کہنا تھا اگر انتخاب ایک برے ڈیموکریٹ اور ایک کمیونسٹ کے درمیان ہے تو میں ہمیشہ برے ڈیموکریٹ کو ترجیح دوں گا۔
یاد رہے کہ نیویارک میئر کا الیکشن آج ہو رہا ہے، جس میں ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن حریف رٹیس سلوا سے ہے، تاہم سروے میں ظہران ممدانی کی پوزیشن کو دیگر امیدواروں کی نسبت مستحکم قرار دیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق ظہران ممدانی کو 44 فیصد، کومو کو 33 فیصد اور سلوا کو 14 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔ ظہران ممدانی نے واضح کیا ہے کہ وہ کامیاب ہوئے تو گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کر دیں گے، شہر میں مفت ٹرانسپورٹ ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برے ڈیموکریٹ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔