واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر زہران ممدانی نیویارک کے میئر منتخب ہوئے تو وفاقی حکومت کے لیے شہر کو فنڈز فراہم کرنا ایک مشکل معاملہ بن جائے گا۔

ٹرمپ نے ممدانی کی سیاست کو کمیونسٹ نظریات سے جوڑا اور کہا کہ اگر نیویارک میں کوئی کمیونسٹ حکمرانی کرے گا تو وہاں فنڈز بھیجنا صرف پیسوں کا ضیاع ہوگا۔

ٹرمپ نے ممدانی کا موازنہ سابق میئر بل ڈی بلاسیو سے کرتے ہوئے کہا کہ ڈی بلاسیو ایک ناکام میئر تھا لیکن ممدانی اس سے بھی زیادہ خراب حکمرانی دکھائے گا۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے بالواسطہ طور پر نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کی اور کہا کہ اگر انتخابات ایک برے ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ کے درمیان ہوں تو وہ ہمیشہ برے ڈیموکریٹ کو ترجیح دیں گے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک میئر کے انتخابات کل ہونے جا رہے ہیں جہاں زہران ممدانی کا مقابلہ سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار رٹیس سلوا سے ہے۔

حالیہ سروے میں ممدانی کو 44 فیصد مقبولیت حاصل ہے، کومو 33 فیصد اور سلوا 14 فیصد پر ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ممدانی کی پوزیشن مضبوط ہے۔

ممدانی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئے تو شہر کے گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کر دیے جائیں گے، نیویارک میں مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی، اور چائلڈ کیئر کی خدمات کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ اگر

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی