سندھ میں ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو کامیابی کیلیے صوبہ نہ چھوڑنا پڑے، وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو کامیابی کے لیے صوبہ نہ چھوڑنا پڑے۔
مقامی ہوٹل میں ’’کورس کریشن: نئی سمت کا تعین‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت، تخلیق اور استقامت کی دھڑکن ہے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی عالمی نقشے بدل رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ سندھ ردِعمل دکھائے گا یا نئی سمت متعین کرے گا؟۔
انہوں نے کہا کہ ردِعمل کا دور ختم، اب پیشگی حکمرانی (anticipatory governance) کا زمانہ ہے۔ کورس کریکشن ناکامی نہیں بلکہ جرات، بلوغت اور جوابدہی کی علامت ہے۔ سندھ پر بڑھتی شہری آبادی، آمدنی میں فرق اور موسمیاتی چیلنجز کا بوجھ ہے۔ سندھ پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مرکز ہے، 30 فیصد سے زائد قومی جی ڈی پی میں حصہ ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صرف کراچی ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتا ہے۔ موجودہ بجٹ میں 959 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ آئندہ سال 3.
انہوں نے کہا کہ صلاحیت تقدیر نہیں، حکمتِ عملی سے سمت درست کرنا ہوگی۔ سندھ کی ترقی چار ستونوں پر مبنی ہے: حکمرانی، ترقی، مواقع اور اشتراک۔ حکمرانی کو ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور عوامی مرکز بنانا ہوگا۔ ای گورننس کے ذریعے بیوروکریسی کم اور خدمات میں آسانی پیدا کر رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی نہیں بلکہ جامع اور پائیدار ہونا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ انسانی سرمایہ، پائیدار شہریت اور موسمیاتی مزاحمت ہماری ترجیح ہے۔ 2022 کے سیلاب نے ثابت کیا کہ پائیداری کے بغیر ترقی ایک فریب ہے۔ سندھ سبز اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سندھ کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے نوجوان ہیں، 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ نوجوان صرف روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار کے خالق ہیں۔ ہم پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل تربیت کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا نظام بنا رہے ہیں جہاں کسی نوجوان کو کامیابی کے لیے صوبہ نہ چھوڑنا پڑے۔ حکومت، نجی شعبہ، اکیڈمیا اور عوام ، سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ مستقبل شراکت، اعتماد اور مشترکہ جوابدہی سے تشکیل پائے گا۔ قیادت کا تقاضا عاجزی، حوصلہ اور ہمدردی ہے۔ اصلاحات کو داد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے نئی راہیں متعین کرنی ہیں۔
فیوچر سمٹ سے خطاب
قبل ازیں فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں صنعتی و لاجسٹک شعبے کی جدید خطوط پر ترقی جاری ہے۔ آئی ٹی پارکس اور ٹیکنالوجی زونز کے قیام کی منظوری وفاق سے تاحال نہیں ملی۔ وفاق سے یہ منظوری نہ ملنے کی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں۔ سندھ حکومت توانائی منتقلی، شہری ترقی اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے اصلاحات متعارف کرا رہے ہیں۔ تعلیم، ڈیجیٹل خواندگی اور ہنر مندی کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے ۔ سندھ کا ایشیائی ترقیاتی بینک کے اسکلز فورم سے اشتراک قائم ہوا ہے ۔ فیوچر سمٹ پالیسی، سرمایہ اور تخلیقیت کو یکجا کرتا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ نیشنل بینک اور نجی شعبہ جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سندھ سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش سرمایہ کاری کی منزل ہے۔ سندھ حکومت سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور اداروں کے ساتھ شراکت بڑھائے گی۔ سندھ کے پاس پاکستان کا بہترین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک موجود ہے۔ تمام سرمایہ کار سندھ میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔