بٹ کوائن کریش! 4 ماہ کی کم ترین سطح پر قیمت، سرمایہ کاروں میں کھلبلی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
بٹ کوائن کریش! 4 ماہ کی کم ترین سطح پر قیمت، سرمایہ کاروں میں کھلبلی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) کی قدر میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق، بٹ کوائن کی قیمت 6.7 فیصد کمی کے بعد 99,936 ڈالر تک گر گئی — یہ جون کے بعد پہلا موقع ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ ڈالر کی حد سے نیچے چلی گئی۔
گزشتہ ماہ بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے مارکیٹ میں 20 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، بٹ کوائن کے ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں (cryptocurrencies) پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایتھیریم (Ethereum) کی قیمت میں 10 فیصد جبکہ ایکس آر پی (XRP) کی قدر میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا میں نئی تاریخ رقم، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب جی ٹی روڈ ترنول پر غیر قانونی مونو لنتھ کے خلاف ایم سی آئی اور ڈی ایم اے کی کارروائی دنیا کی بااثر ترین شخصیات:پاکستانی وزیر اعظم،فیلڈ مارشل،مفتی تقی عثمانی شامل میئر نیویارک کا انتخاب: بیلٹ پر ممدانی کا نام 2 مرتبہ آنے پر ایلون مسک کی تنازع کھڑا کرنیکی کوشش صیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار اداکیا، ایرانی سفیر پی ایف یو جے ورکرزکے زیر اہتمام صحافیوں کو درپیش سنگین صورتحال کیخلاف احتجاجی مظاہرہ سونے کی قیمت میں 3500 روپے کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بٹ کوائن
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔