چین سے دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے: صدر آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد، دوحہ ( نیوزڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چین سے دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، چین نے ہر مشکل گھڑی میں تعاون کیا۔
دوحہ میں صدر آصف علی زرداری کی چین کے نائب صدر ہان ژنگ سے ملاقات ہوئی جس میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی اور ہر موسم کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے چین کی جانب سے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
صدر مملکت نے سی پیک کے کامیاب نفاذ میں چین کے تعاون کو سراہا، چین کے نائب صدر ہان ژنگ نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں۔
چینی نائب صدر نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور علاقائی امن کیلئے کردار کو سراہا اور کہا کہ چین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستان کی ترقی میں تعاون جاری رکھے گا، ترقی کے منصوبے ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت اور ووکیشنل تربیت جیسے شعبوں میں شامل ہوں گے۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی اعتماد، احترام اور علاقائی خوشحالی کے وژن پر مبنی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، علاقائی و عالمی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی زرداری پاکستان کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔