الیکشن کمیشن نے جی بی کی سیاسی جماعتوں سے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت اپنے اکاونٹس ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ کروا کر فارم ڈی پر جمع کرانے کی پابند ہے اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے تمام سیاسی جماعتوں سے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن ایکٹ 2017ء کے قواعد و ضوابط کے مطابق مالی سال 2024-25ء کے اختتام تک کے اپنے اکاؤنٹس کی جامع آڈٹ شدہ تفصیلات الیکشن کمیشن جی بی میں جمع کرانے کی پابند ہیں، اس سلسلے میں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ یادہائی مورخہ 28 اگست 2025ء کو مقامی اور قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے تاہم اب ایک مرتبہ پھر توجہ دلائی جا رہی ہے کہ مقررہ تاریخ 30 نومبر 2025ء تک یہ گوشوارے لازمی طور پر جمع کرائے جائیں، الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت اپنے اکاونٹس ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ کروا کر فارم ڈی پر جمع کرانے کی پابند ہے، اس بیان میں جماعت کی سالانہ آمدنی اخراجات، فنڈز کے ذرائع اور اثاثہ جات و واجبات کی تفصیلات شامل ہونی چاہیں، اس کے ساتھ چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی رپورٹ اور پارٹی کے مجاز عہدیدار کی تصدیق بھی منسلک ہونی چاہیے جس میں اس بات کی تصدیق ہو کہ جماعت نے کسی بھی ممنوعہ ذریعے سے فنڈز حاصل نہیں کیے اور جمع کرایا گیا مالی بیان جماعت کے حقیقی مالی صورتحال کی درست عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی جانب سے جاری الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کے مطابق
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔