شبلی فراز کی سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے ووٹنگ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبہ خیبر پختونخوا سے پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں شبلی فراز کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے ووٹنگ جاری ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی، پولنگ خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت میں ہو رہی ہے، ضمنی انتخاب کیلئے صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل ریٹرننگ افسر (آر او) مقرر کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ خرم ذیشان اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تاج محمد آفریدی مشترکہ امیدوار ہیں۔
ہمارے ارکانِ اسمبلی چٹان کی طرح پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا اسمبلی اراکین کی کل تعداد 145 ہے، سینیٹ کی خالی نشست پر کامیابی کیلئے 73 ووٹ درکار ہیں، حکومتی اراکان کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن ممبران 53 ہیں۔
یاد رہے کہ یہ نشست تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد نااہل قرار دینے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔