خیبر پختونخوا سے 3 ججز کی خدمات اسلام آباد جوڈیشل سروس کے سپرد
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا جوڈیشل سروس سے 3 ججز کی خدمات اسلام آباد جوڈیشل سروس کے سپرد کردی گئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار محمد یار ولانہ نے الگ الگ نوٹی فکیشنز جاری کردیے، جس کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز عصمت اللہ اور حسینہ ثقلین کی خدمات اسلام آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردی گئی ہیں۔ اسی طرح سول جج مریم شہریار کی خدمات بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردی گئی ہیں۔نوٹی فکیشن کے مطابق تینوں ججز کی خدمات ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر 3 سال کے لیے اسلام آباد جوڈیشل سروس کے سپرد کی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تینوں ججز کی اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں ذمے داریاں دے دیں۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عصمت اللہ کو سیشن ڈویژن ایسٹ اسلام آباد تعینات کیاگیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حسینہ ثقلین کو سیشن ڈویژن ویسٹ اسلام آباد تعینات کیاگیا ہے جب کہ سول جج مریم شہریار کو سیشن ڈویژن ویسٹ اسلام آباد میں تعینات کر دیاگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جوڈیشل سروس اسلام ا باد کی خدمات کے سپرد ججز کی
پڑھیں:
کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
اسلام آباد+پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+بیورو رپورٹ) نیب نے کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پی کے شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔ پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے۔ حوالے کیے گئے اثاثوں میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ نیب کے مطابق اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی، کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا، انہوں نے ڈی جی نیب خیبر پی کے فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ چیئرمین نیب نے کہا کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبرپی کے حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔