سیشن عدالت کا علی امن گنڈاپورکو گرفتار کرکے پیش کرنیکا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-08-16
اسلام آباد(آن لائن)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔دورانِ سماعت علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش نہیں ہوئے جب کہ ان کے وکیل راجا ظہور الحسن بھی عدالت نہیں آئے، جس پر عدالت نے علی امین گنڈا پور کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔عدالت نے علی امین گنڈا پور کی مسلسل غیر حاضری کے باعث وارنٹ گرفتاری کیے اور کیس کی آئندہ سماعت 11نومبر تک ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔