بحریہ قومی خودمختاری کے تحفظ، سمندری حدود کے دفاع کیلئے تیار: ایڈمرل نوید اشرف
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ سٹاف کانفرنس نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اختتام پذیر ہو گئی۔ صدارت چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کی۔ سربراہ پاک بحریہ نے میری ٹائم ڈومین میں روایتی اور غیر روایتی خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے مستقل جنگی تیاری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پاک بحریہ علاقائی بحری سلامتی اور امن و استحکام کے قیام میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایڈمرل نوید اشرف نے قوم کو یقین دلایا کہ پاک بحریہ قومی خود مختاری کے تحفظ اور سمندری سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ کانفرنس میں آپریشنل تیاریوں، جاری اقدامات اور آنے والے ایونٹس کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا انعقاد اور تیاریاں بھی شامل ہیں، جو کہ بلیو اکانومی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے اہم پلیٹ فارم ہے۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کانفرنس پاک بحریہ کا اعلیٰ فیصلہ ساز فورم ہے جس میں چیف آف دی نیول سٹاف کی سربراہی میں پرنسپل سٹاف آفسرز اور فیلڈ کمانڈرز پاک بحریہ کی پالیسیوں اور منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔