قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہیں: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والے تفرقہ انگیز عناصر سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژنز کا دورہ کیا جس دوران انہیں فارمیشن کی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز اور جدید سمیولیٹر ٹریننگ سہولت کا مشاہدہ کیا، چیف آف ڈیفنس فورسز نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جدید جنگی ماحول میں پھرتی، درستگی، مؤثر حالات سے آگاہی اور بروقت فیصلہ سازی ناگزیر ہے۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز نے افسران اور جوانوں سے گفتگو کی اور ان کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے جوانوں کی سخت گیر مشن پر مبنی تربیت کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہا پسند نظریات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، پاک فوج قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والے تفرقہ انگیز عناصر سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل کے لیے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔