احمد پورشرقیہ، شادی سے ایک روز قبل دلہن باپ و بھائی کے ہاتھوں قتل
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
احمد پورشرقیہ (نیوزڈیکس) مقتولہ سلمیٰ جبیں جسے اسکے والد اور بھائی نے شادی سے ایک روز قبل بے دردی سے قتل کر دیا،قتل کے ملزم ابھی تک گرفتار نہ ہوسکے ۔
احمد پور شرقیہ کی رہائشی سلمیٰ جبیں جسکی بارات 12دسمبر کو آنی تھی،شادی سےایک روز قبل11 دسمبر کی رات والد اور بھائی نے ملکر سلمیٰ کو قتل کردیا،سلمیٰ جبیں اپنی منہ بولی والدہ کے پاس چھبیس سال سے رہ رہی تھی،والد نے اپنے ہاتھوں اسکا رشتہ حیدرآباد کے رہائشی قاسم سے طے کیا ۔
گیارہ دسمبر کی رات بارات حیدرآباد سے روانہ ہوئی تو والد اور بھائی سلمیٰ کو منہ بولی والدہ کے گھر سے لے گئے کہ ہم نے اپنےگھرشادی کی تقریب رکھی ہے،اور سلمیٰ کو لےجاکر بے دردی سے قتل کردیا گیا،بارات گھر پہنچنے سے پہلے ہی سلمیٰ کی لاش اسپتال پہنچ گئی ۔
پولیس نےمنہ بولی والدہ اور رشتے داروں کو سارا دن تھانے بٹھانے کے بعد اپنی ہی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا،لیکن تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔