سیف الدین کی والدہ انتقال کرگئیں ٗ نماز جنازہ میں منعم ظفر کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-25
کراچی(اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کی والدہ جمعرات کوانتقال کرگئیں۔ مرحومہ کی نماز جنازہ سیف الدین ایڈووکیٹ کی امامت میں بعد نمازِ عشاء الحرمین مسجد پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میںادا کی گئی ،مقامی قبرستان میں تدفین ہوئی ۔نماز جنازہ میں امیر کراچی منعم ظفر خان، نائب امرا کراچی مسلم پرویز، راجا عارف سلطان، انجینئر سلیم اظہر،نوید علی بیگ ،معاون خصوصی برائے امیر کراچی عبد الوہاب ، برجیس احمد ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ،، ڈپٹی سیکرٹریز راشد قریشی ،یونس بارائی،عبد الرزاق خان ، عبد الرحمن فدا،ابن الحسن ہاشمی ،انجینئر صابر احمد،وقاص اعظمی ،منیر یعقوب ، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امر ا اضلاع فضل احد، ڈاکٹر نور الحق، نعیم اختر،سفیان دلاور ، ٹائون چیئر مینزڈاکٹر فواد، نصرت اللہ، ظفر احمد خان، رضوان عبد السمیع ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد،ناظم کراچی جمعیت آبش صدیقی سمیت اہل محلہ عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔