Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:07:12 GMT

آسٹریلیا: فائرنگ، 16 ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

آسٹریلیا: فائرنگ، 16 ہلاک

سڈنی؍ اسلام آباد؍ واشنگٹن (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد نے تقریب پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سڈنی کے بونڈائی بیچ پر پیش آیا، جہاں 2 مسلح افراد نے  شرکاء تقریب پر فائر کھول دیا۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک فائرنگ کرنے والا بھی شامل جبکہ دوسرے حملہ آور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے  بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ یہودیوں کے  تہوار ’’حنوکا‘‘ کی تقریب کے دوران پیش آیا جبکہ فائرنگ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی آبادی کو بونڈی بیچ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ آسٹریلوی حکام نے بتایا کہ اتوار کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر یہودیوں کی چھٹیوں کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔مرنے والوں میں اسرائیلی شہری، 2 مقامی پولیس افسر بھی زخمیوں میں  شامل ہیں۔ یہودیوں کا تہوار ’’حنوکا‘‘ منایا جا رہا تھا۔ حملہ آور ایک اونچے مقام پر پہنچے اور سیدھی فائرنگ کرتے رہے، حملہ آور نوید اکرم کو روکنے کے دوران مسلمان احمد الاحمد 2 گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں ہسپتال داخل کرا دیا گا۔  آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم دو مسلح افراد میں سے ایک بھی شامل ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینیون نے حملے کو دہشتگردی قرار دیتے کہا حملہ آوروں کے پاس آٹومیٹک گنیں تھیں اور سیاہ لباس میں ملبوس تھے۔ پولیس حکام  کے مطابق ایک حملہ آور کا نام نوید اکرم اور وہ جنوبی مغربی سڈنی کا رہائشی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک مشتبہ سمیت کم از کم 12 لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جب کہ ایک مشتبہ شخص کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کی ایمبولینس کے ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد ایک درجن کے قریب لوگوں کو مقامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیراعظم کرس فاس نے دعویٰ کیا یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کیلئے حملہ کیا گیا۔ آسٹریلوی پولیس نے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک فائرنگ کرنے والا بھی شامل جبکہ دوسرے حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی مسلم کمیونٹی نے سڈنی فائرنگ واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ مسلم کمیونٹی کے مطابق معاشرے میں ایسے پْرتشدد اور مجرمانہ اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں اور ذمہ داروں کو قانون کا سامنا کرتے ہوئے مکمل طور پر جوابدہ ہونا چاہیے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے واقعے کو صدمہ اور تکلیف دہ  دیا۔آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے ساحل بونڈی پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اسے یہودیوں پر حملہ قرار دے دیا۔ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بونڈی ساحل پر  یہودی کمیونٹی جمع ہوکر اپنا مذہبی تہوار ’’حنوکا‘‘ جوش و خروش سے منا رہی تھی، دہشت گرد حملے میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والے بیشتر آسٹریلوی شہری تھے۔ انہوں نے حملہ آور کو پکڑنے والے احمد ال احمد کی تعریف کرتے ہوئے ہیرو قرار دیدیا ہے۔ انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آئندہ تحفظ کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہودی کمیونٹی سمیت آسٹریلیا کے تمام لوگوں کو قومی اتحاد کے ذریعے تحفظ فراہم کریں گے۔ البانیز نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ فوری ایکشن کی وجہ سے بہت ساری جانیں بچ گئیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ منصفانہ ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کو ان کے ملک کی یہود مخالف پالیسیوں سے خبردار کر دیا۔ آسٹریلوی وزیراعظم سے کہا ان کے ملک کی پالیسیاں یہود دشمنی کو ہوا دیتی ہیں۔ سڈنی کے مصروف بیچ پر حملہ کرنے والوں کی شناخت سامنے آ گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت مان ہارون مونس کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق ایران سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہری کے دبوچنے کی نتیجے میں گرفتار ہونے والے حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی اور وہ آسٹریلیا کے جنوب مغربی علاقے کا رہائشی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جس حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی، اسے بونڈی بیچ پر موجود 43 سالہ مسلم شخص احمد الاحمد نے دبوچ کر قابو کیا جبکہ اس دوران وہ خود بھی زخمی ہو گئے۔ اے بی سی نیوز کیمطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے بتایا نوید اکرم کے گھر ’’بونی ریگ‘‘  کے علاقے میں چھاپہ مارا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے سڈنی میں دہشتگرد حملے پر اظہار افسوس اور مذمت کی ہے صدر مملکت نے متاثرین کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس طرح کے حملوں کے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ صدر نے مشکل وقت میں آسٹریلوی عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریلیا میں بانڈی بیچ پر ہونے والے حملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ اس مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہیں۔ شہبازشریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے سڈنی میں یہودیوں کے ایک اجتماع پر ہونے والے حملے کو انتہائی قابل نفرت اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ہر حال میں آسٹریلیا اور یہودی برادری کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سڈنی میں دہشتگردانہ حملے پر گہرا دکھ ہوا۔ وزیر داخلہ نے آسٹریلوی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ دہشتگردی خالص برائی ہے۔ دہشتگردی انسانیت کیخلاف ناقابل معافی جرم ہے۔ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے آسٹریلیا میں فائرنگ کے واقعہ پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ آسٹریلیا میں حملے کی مذمت کرتا ہے۔ پرتشدد واقعات کی خبروں سے دلی طور پر غمزدہ ہیں، مرنے والوں کے ورثاء سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے آسٹریلیا واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ سڈنی میں دہشتگردی حملے کی مذمت کرتے ہیں، آسٹریلیا میں سفاکانہ اور مہلک حملے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوں۔ واقعہ میں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ یورپی یونین میوشین اور ایران نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے۔ دریں اثناء آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک حملہ آور نوید اکرم کو پکڑنے والے شہری کی شناخت سامنے آ گئی۔ انہوں نے بندوق کا رخ موڑ دیا۔ آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بہادر شہری کی شناخت 43 سالہ احمد الاحمد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سڈنی میں دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں اور 2 بچوں کے والد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق  وائرل ویڈیو میں احمد کو حملہ آور پر قابو پاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کی جانب سے احمد کی بہادری کی داد دی جا رہی ہے اور آسٹریلوی میڈیا میں انہیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں احمد کو پذیرائی ملی۔امریکی صدر ٹرمپ نے شمالی نیو یارک یونیورسٹی میں فائرنگ اور آسٹریلیا میں دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ سڈنی میں ہونے والا حملہ خوفناک تھا، آسٹریلیا میں حملہ یہود مخالف تھا۔ مذہبی تہوار منانے والوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ تہوار منانے والوں کو کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں۔ لوگ فخر سے تہوار منائیں اور اپنی شناخت پر ناز کریں۔ وائٹ ہاؤس میں کرسمس تقریب سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ شام میں امریکی فوجیوں پر حملہ داعش نے کیا۔ شامی حکومت نے نہیں، امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: فائرنگ کا واقعہ کے نام سے ہوئی یہودی کمیونٹی آسٹریلیا میں نوید اکرم کے آسٹریلیا کے مذمت کی ہے ہلاک ہونے والوں میں کہ فائرنگ قرار دیتے فائرنگ کے ہونے والے کرتے ہوئے کہا ہے کہ نے کہا کہ کی شناخت کے مطابق انہوں نے حملہ آور بتایا کہ کے ساتھ پر حملہ کی مذمت سڈنی کے بیچ پر میں لے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک