سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ریئل اسٹیٹ کے دروازے کھل گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
سعودی عرب جنوری 2026 سے غیر سعودی افراد کے لیے جائیداد کی ملکیت اور ریئل اسٹیٹ حقوق سے متعلق ایک نظرثانی شدہ قانونی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے، جو مملکت میں غیر ملکیوں کی جائیداد ملکیت کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔
وزیرِ بلدیات و ہاؤسنگ ماجد الحقیل کے مطابق نئے نظام کے تحت غیر ملکیوں کو سعودی عرب کے بیشتر شہروں میں رہائشی جائیداد خریدنے کی اجازت ہوگی، تاہم مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ اور ریاض سمیت 4 شہروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
نئے قواعد کے مطابق سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی ایک رہائشی یونٹ کے مالک بن سکیں گے، جبکہ غیر مقیم غیر ملکیوں کو صرف ان مخصوص علاقوں میں جائیداد رکھنے کی اجازت ہوگی جن کی منظوری متعلقہ حکام دیں گے۔
In a defining moment for the sector, HE Majid AlHogail, Minister of Municipalities and Housing, outlines how Saudi Arabia’s new ownership framework will expand investment, accelerate development, and set the tone for 2026 at RFF2026
26-28 January 2026 pic.
— منتدى مستقبل العقار (@Reff_KSA) December 9, 2025
غیر ملکی کہاں جائیداد خرید سکتے ہیں اور کہاں نہیں؟ماجد الحقیل کے مطابق غیر ملکیوں کو ملک بھر میں رہائشی جائیداد رکھنے کی اجازت ہوگی، سوائے ان 4 شہروں کے جنہیں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں غیر مقیم غیر ملکیوں کے لیے مخصوص زونز متعین کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی، صنعتی اور زرعی جائیداد کے حوالے سے غیر ملکیوں کو تمام شہروں میں بلا استثنیٰ ملکیت کی اجازت ہوگی، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں وسعت متوقع ہے۔
واضح قانونی فریم ورک اور حدود کا تعیننیا نظام غیر ملکیوں کی جائیداد ملکیت کو منظم کرنے کے لیے واضح جغرافیائی حدود، ملکیت کی حدیں اور قانونی ضوابط متعین کرتا ہے۔
غیر سعودی افراد کو جائیداد یا دیگر حقیقی حقوق صرف ان علاقوں میں حاصل کرنے کی اجازت ہوگی جن کی منظوری وزرا کونسل دے گی، یہ منظوری رئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی کی سفارش اور کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کی توثیق کے بعد دی جائے گی۔
ان منظوریوں میں اجازت یافتہ حقوق کی اقسام، زیادہ سے زیادہ ملکیتی تناسب اور دیگر شرائط واضح کی جائیں گی۔
مقیم غیر ملکیوں کے لیے رہائشی ملکیتقانون کے تحت سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی افراد مخصوص زونز سے باہر ایک رہائشی جائیداد کے مالک بن سکتے ہیں، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔
ان دونوں مقدس شہروں میں جائیداد کی ملکیت صرف مسلمانوں تک محدود رہے گی۔
کمپنیوں اور سرمایہ کاری اداروں کے لیے قواعدغیر لسٹڈ کمپنیاں جن میں غیر ملکی ملکیت شامل ہو، سعودی کمپنی قانون کے تحت قائم ہونے کی صورت میں منظور شدہ جغرافیائی علاقوں میں، بشمول مکہ اور مدینہ، جائیداد کی مالک بن سکیں گی۔
یہ کمپنیاں کاروباری ضروریات یا ملازمین کی رہائش کے لیے منظور شدہ ضوابط کے تحت ان علاقوں سے باہر بھی جائیداد رکھ سکیں گی۔
اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیاں، سرمایہ کاری فنڈز اور خصوصی مقاصد کے لیے قائم ادارے پورے سعودی عرب میں، بشمول مقدس شہروں، جائیداد رکھنے کے مجاز ہوں گے، تاہم یہ سب کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ضوابط کے تحت ہوگا، جو ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی اور دیگر اداروں کے اشتراک سے مرتب کیے جائیں گے۔
فیس، رجسٹریشن اور سزائیںنظام میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کی جائیداد ملکیت انہیں قانون میں بیان کردہ حدود سے زیادہ کوئی اضافی مراعات فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی یہ دیگر پروگراموں، جیسے پریمیئم ریزیڈنسی پروگرام یا خلیجی تعاون کونسل کے معاہدوں کے تحت دیے گئے حقوق کو متاثر کرے گی۔
تمام غیر سعودی افراد اور اداروں کو متعلقہ حکام کے پاس رجسٹریشن کرانا لازم ہوگا اور جائیداد کی ملکیت اسی وقت قانونی طور پر تسلیم کی جائے گی جب وہ ریئل اسٹیٹ رجسٹری میں درج ہو جائے۔
مزید پڑھیں:
غیر ملکی ملکیت پر جائیداد کی مالیت کا زیادہ سے زیادہ 5 فیصد تک ٹرانزیکشن فیس عائد کی جائے گی، جس کی تفصیلات ایگزیکٹو ضوابط میں طے کی جائیں گی۔
قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے یا انتباہ جاری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے پر 1 کروڑ سعودی ریال تک جرمانہ اور بعض صورتوں میں عدالت کے حکم سے جائیداد کی فروخت بھی ممکن ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلدیات و ہاؤسنگ جدہ ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی ریاض سرمایہ کار سعودی عرب کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی مدینہ مکہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلدیات و ہاؤسنگ ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی ریاض سرمایہ کار مکہ کی اجازت ہوگی مقیم غیر ملکی غیر ملکیوں کو ریئل اسٹیٹ جائیداد کی سکتے ہیں کی ملکیت کے تحت کے لیے
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔