Express News:
2026-07-24@05:33:01 GMT

پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT


مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور دکھ بھی، جب کوئی بیوی، بیٹی یا بہن اپنے ماں باپ کے ساتھ میرے چیمبر میں آتی ہے اور پہلے وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں اور پھر جب انہیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اب آفس میں صرف وکیل اور وہ ہیں تو پھر آہستہ آہستہ وہ بتلاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو طلاق چاہیے۔

بہت سے کیسز میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ شادی تو بہت دھوم دھام سے اور سب کی شراکت داری سے ہوئی تھی مگر سب سے اہم نکتہ یکسر نظر انداز کر دیا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی جنہیں ہم اس بندھن میں باندھ رہے ہیں، ان میں لچک اور برداشت کا مادہ کس حد تک ہے اور کیا انہیں ایک دوسرے کی شکلیں بھی پسند ہیں یا ان میں ذہنی ہم آہنگی کا کوئی امکان ہے بھی؟

کیونکہ یہ بات تو والدین کے علم میں ہوتی ہے جو میرے حساب سے انہیں پہلے ایک دوسرے سے بیان کر دینی چاہیے یا جب پہلے مرحلے میں ایک نشست ہوتی ہے تو اس کے بعد خاندان کے فیملی ممبرز ایک دوسرے کے نسب و نسل اور معاشی حالات سے زیادہ مرکزی کرداروں کی معلومات لیں تو آنے والے بہت سے مسائل سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ کئی زندگیوں کو خراب ہونے سے بچایا بھی جا سکتا ہے۔ اور اگر شادی کے بعد مسائل پیدا ہو بھی جائیں تو والدین کو فریقین کو بٹھا کر انہیں اچھی طرح سننے کے بعد اگر انہیں یہ محسوس ہوکہ بہت کچھ سنگین اور خوفناک نوعیت کا ہے اور کسی ایک کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ہو تو پھر طلاق ہی بہترین حل ہے۔ کیونکہ آخر قدرت نے یہ آپشن رکھا بھی تو ہے۔

یہ سب باتیں مجھ سے ایک ایڈووکیٹ نے کی تھیں۔ جن کے پاس کچھ عرصہ سے فوجداری سے زیادہ فیملی کیسز آ رہے تھے۔ منہ مانگی فیسز مل رہی تھیں لیکن اب اس کی توانائی زیادہ تر خلع کے کیسز پر ہی لگ رہی تھی جس کا ایک سا ہی فارمیٹ ہوتا تھا اور یہ اس کے لیپ ٹاپ میں محفوظ تھا جس پر بس نام ہی تبدیل کیا یا ایک آدھ سطر ڈیلیٹ کردی یا پھر شامل کردی اور بس فائل تیار اور عدالت میں پیش۔ اور مختصر وقت میں ایک خوبصورت رشتے کا وجود بھک سے اڑ جاتا تھا۔

ہمارے عدالتی نظام میں الگ سے فیملی کورٹس فعال ہیں جو تیزی سے فیملی کیسز کو حل کرتی ہیں اور ان میں وہ تاریخ پر تاریخ والا سین نہیں چلتا۔

پاکستان میں یہ عدالتیں 1961 کے ایک آرڈیننس کے تحت خصوصی طور پر قائم کی گئی تھیں۔ ان کا بنیادی مقصد ہی فیملی کیسز جن میں طلاق (مرد کو حق حاصل ہے کہ وہ رشتہ ختم کردے)، خلع (اگر رشتہ برقرار رکھنا ناممکن ہوجائے اور شوہر بیوی کو آزاد نہ کرے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بذریعہ فیملی کورٹ مکمل طور پر اس رشتہ کو ختم کروا سکتی ہے)، حق المہر (بوقت نکاح شوہر بیوی کو اس کی مرضی کے مطابق مخصوص رقم یا جائیداد دینے کا پابند ہوتا ہے جس کی ادائیگی اس پر فرض ہے اگر وہ  ایسا نہیں کرتا تو بیوی فیملی کورٹ سے اس کے خلاف دعوی دائر کرسکتی ہے اور اپنا حق لے سکتی ہے)، نان و نفقہ (بیوی اور بچوں کو ضروریات زندگی جیسے روٹی، کپڑا، مکان و روز مرہ کے اخراجات شوہر کی ذمے داری ہے، اگر وہ ایسا جان بوجھ کرمہیا نہیں کرتا ہے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کرے)، سامان واپسی جہیز، بچوں کی حوالگی و ملاقات، میاں بیوی کے حقوق و فرائض کا توازن (دعویٰ اعادہ حقوق زن شوئی، اس میں اگر بیوی شوہر کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے تو شوہر عدالت سے مدد طلب کر سکتا ہے ایسے میں عدالت یہ حکم صادر کرتی ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ گھر بسائے تاہم اگر عورت ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو عدالت اسے مجبور نہیں کر سکتی) کو قوانین کی چھتری تلے تحفظ دینا ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے خوبصورت ترین رشتہ ہے لیکن اگر ناہموار ہوجائے اور اس میں پیچیدگیاں بڑھتی جائیں تو یہ بہت بھیانک ثابت ہوتا ہے اور اذیت کا باعث بن جاتا ہے اور اگر اس میں اولاد بھی شامل ہوجائے تو اسے بھی اس کی بھاری قیمت دینا پڑتی ہے۔ تاہم اگر میاں بیوی کو یہ یقین ہو کہ ان کا ایک ساتھ رہنا تقریباً ناممکن ہے تو بہتر ہے کہ وضع داری اور عزت احترام کے ساتھ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں۔

ہمارا معاشرہ ابھی گھٹن زدہ ہے اور طلاق یا خلع کو براہ راست عورت یا مرد کے کردار پر ایک دھبہ تصور کرتا ہے۔ تاہم ہم کم ازکم اگلی نسل کی تربیت میں یہ تو شامل کریں کہ عورت اور مرد جب میاں بیوی بنتے ہیں اور ان میں نباہ ناممکن ہوجائے اور دونوں ایک دوسرے کےلیے نا قابل برداشت ہوجائیں تو ایک وضع داری اور احترام سے اپنا اپنا راستہ الگ کرلیں، نہ کہ عدالتوں میں یا ایک دوسرے کے گھروں میں جاکر یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک دوسرے پر کیچڑ اور غلیظ الزامات کی بوچھاڑ کریں۔

مجھے ایک اور ایڈووکیٹ کی اس بات میں بھی سچائی دکھائی دیتی ہے کہ اس کے چیمبر میں آکر بس یہی جملہ دہرایا جاتا ہے کہ طلاق چاہیے اور کبھی کسی نے آکر جو مرکزی وجوہات ہوتی ہیں وہ بیان نہیں کیں، جیسے ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا، مزاج کا نہ ملنا، عادات و فطرت کا اختلاف، ناپسند سے شادی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے سارے وکلا اپنے کلائنٹس سے نکاح نامہ، فہرست سامان جہیز، شناختی کارڈ اور ایک دو سفید کاغذات پر انگوٹھے و دستخط لے کر اپنے منشی کو فائل تیار کرنے کو دیتے ہیں، جو  عدالتوں میں کمپوزنگ ٹائپنگ شاپ پر جاتا ہے اوروہ ٹائپسٹ کمپیوٹر میں پہلے سے محفوظ کوئی سا بھی خلع یا طلاق کا دعویٰ کھولتا ہے ،بس اوپر نام بدلتا ہے اور نیچے وہی الزامات ایک ٹرینڈ یا ہیش ٹیگ کی طرح  چل رہے ہوتے ہیں کہ مار پیٹ کرتا ہے، خرچ نہیں دیتا، کردار پر الزامات اور شک کرتا ہے اور نباہ ممکن نہیں ہے اور مدعیہ (بیوی) مدعا علیہ (شوہر) کے ساتھ رہنے کے بجائے موت کو ترجیح دے گی اور خلع کا دعویٰ دائر۔

ایک نے تو کمال کردیا۔ اس کا الزام جو مجھے نیا لگا وہ یہ تھا کہ میرا شوہر اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کا پاسورڈ مجھے نہیں دے رہا اور خود تو برانڈڈ کوٹ سوٹ پہنتا ہے اور جب میں برانڈز کی  ڈیمانڈ کروں تو کہتا ہے کہ پیسے تو گھر میں لگ جاتے ہیں، گھر کا خرچہ بہت ہے، بجلی کا بل بہت آگیا اور مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے۔ وہ مجھے اپنے موبائل، لیپ ٹاپ اور ای میل کا پاسورڈ نہیں دے رہا اور ہماری اس بات پر کئی دفعہ لڑائی بھی ہوئی ہے۔ کیا مجھے عدالت سے انصاف مل سکتا ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میاں بیوی ایک دوسرے ہے کہ وہ بیوی کو کرتا ہے سکتا ہے جاتا ہے کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن