Express News:
2026-06-03@06:20:30 GMT

پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT


مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور دکھ بھی، جب کوئی بیوی، بیٹی یا بہن اپنے ماں باپ کے ساتھ میرے چیمبر میں آتی ہے اور پہلے وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں اور پھر جب انہیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اب آفس میں صرف وکیل اور وہ ہیں تو پھر آہستہ آہستہ وہ بتلاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو طلاق چاہیے۔

بہت سے کیسز میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ شادی تو بہت دھوم دھام سے اور سب کی شراکت داری سے ہوئی تھی مگر سب سے اہم نکتہ یکسر نظر انداز کر دیا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی جنہیں ہم اس بندھن میں باندھ رہے ہیں، ان میں لچک اور برداشت کا مادہ کس حد تک ہے اور کیا انہیں ایک دوسرے کی شکلیں بھی پسند ہیں یا ان میں ذہنی ہم آہنگی کا کوئی امکان ہے بھی؟

کیونکہ یہ بات تو والدین کے علم میں ہوتی ہے جو میرے حساب سے انہیں پہلے ایک دوسرے سے بیان کر دینی چاہیے یا جب پہلے مرحلے میں ایک نشست ہوتی ہے تو اس کے بعد خاندان کے فیملی ممبرز ایک دوسرے کے نسب و نسل اور معاشی حالات سے زیادہ مرکزی کرداروں کی معلومات لیں تو آنے والے بہت سے مسائل سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ کئی زندگیوں کو خراب ہونے سے بچایا بھی جا سکتا ہے۔ اور اگر شادی کے بعد مسائل پیدا ہو بھی جائیں تو والدین کو فریقین کو بٹھا کر انہیں اچھی طرح سننے کے بعد اگر انہیں یہ محسوس ہوکہ بہت کچھ سنگین اور خوفناک نوعیت کا ہے اور کسی ایک کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ہو تو پھر طلاق ہی بہترین حل ہے۔ کیونکہ آخر قدرت نے یہ آپشن رکھا بھی تو ہے۔

یہ سب باتیں مجھ سے ایک ایڈووکیٹ نے کی تھیں۔ جن کے پاس کچھ عرصہ سے فوجداری سے زیادہ فیملی کیسز آ رہے تھے۔ منہ مانگی فیسز مل رہی تھیں لیکن اب اس کی توانائی زیادہ تر خلع کے کیسز پر ہی لگ رہی تھی جس کا ایک سا ہی فارمیٹ ہوتا تھا اور یہ اس کے لیپ ٹاپ میں محفوظ تھا جس پر بس نام ہی تبدیل کیا یا ایک آدھ سطر ڈیلیٹ کردی یا پھر شامل کردی اور بس فائل تیار اور عدالت میں پیش۔ اور مختصر وقت میں ایک خوبصورت رشتے کا وجود بھک سے اڑ جاتا تھا۔

ہمارے عدالتی نظام میں الگ سے فیملی کورٹس فعال ہیں جو تیزی سے فیملی کیسز کو حل کرتی ہیں اور ان میں وہ تاریخ پر تاریخ والا سین نہیں چلتا۔

پاکستان میں یہ عدالتیں 1961 کے ایک آرڈیننس کے تحت خصوصی طور پر قائم کی گئی تھیں۔ ان کا بنیادی مقصد ہی فیملی کیسز جن میں طلاق (مرد کو حق حاصل ہے کہ وہ رشتہ ختم کردے)، خلع (اگر رشتہ برقرار رکھنا ناممکن ہوجائے اور شوہر بیوی کو آزاد نہ کرے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بذریعہ فیملی کورٹ مکمل طور پر اس رشتہ کو ختم کروا سکتی ہے)، حق المہر (بوقت نکاح شوہر بیوی کو اس کی مرضی کے مطابق مخصوص رقم یا جائیداد دینے کا پابند ہوتا ہے جس کی ادائیگی اس پر فرض ہے اگر وہ  ایسا نہیں کرتا تو بیوی فیملی کورٹ سے اس کے خلاف دعوی دائر کرسکتی ہے اور اپنا حق لے سکتی ہے)، نان و نفقہ (بیوی اور بچوں کو ضروریات زندگی جیسے روٹی، کپڑا، مکان و روز مرہ کے اخراجات شوہر کی ذمے داری ہے، اگر وہ ایسا جان بوجھ کرمہیا نہیں کرتا ہے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کرے)، سامان واپسی جہیز، بچوں کی حوالگی و ملاقات، میاں بیوی کے حقوق و فرائض کا توازن (دعویٰ اعادہ حقوق زن شوئی، اس میں اگر بیوی شوہر کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے تو شوہر عدالت سے مدد طلب کر سکتا ہے ایسے میں عدالت یہ حکم صادر کرتی ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ گھر بسائے تاہم اگر عورت ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو عدالت اسے مجبور نہیں کر سکتی) کو قوانین کی چھتری تلے تحفظ دینا ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے خوبصورت ترین رشتہ ہے لیکن اگر ناہموار ہوجائے اور اس میں پیچیدگیاں بڑھتی جائیں تو یہ بہت بھیانک ثابت ہوتا ہے اور اذیت کا باعث بن جاتا ہے اور اگر اس میں اولاد بھی شامل ہوجائے تو اسے بھی اس کی بھاری قیمت دینا پڑتی ہے۔ تاہم اگر میاں بیوی کو یہ یقین ہو کہ ان کا ایک ساتھ رہنا تقریباً ناممکن ہے تو بہتر ہے کہ وضع داری اور عزت احترام کے ساتھ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں۔

ہمارا معاشرہ ابھی گھٹن زدہ ہے اور طلاق یا خلع کو براہ راست عورت یا مرد کے کردار پر ایک دھبہ تصور کرتا ہے۔ تاہم ہم کم ازکم اگلی نسل کی تربیت میں یہ تو شامل کریں کہ عورت اور مرد جب میاں بیوی بنتے ہیں اور ان میں نباہ ناممکن ہوجائے اور دونوں ایک دوسرے کےلیے نا قابل برداشت ہوجائیں تو ایک وضع داری اور احترام سے اپنا اپنا راستہ الگ کرلیں، نہ کہ عدالتوں میں یا ایک دوسرے کے گھروں میں جاکر یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک دوسرے پر کیچڑ اور غلیظ الزامات کی بوچھاڑ کریں۔

مجھے ایک اور ایڈووکیٹ کی اس بات میں بھی سچائی دکھائی دیتی ہے کہ اس کے چیمبر میں آکر بس یہی جملہ دہرایا جاتا ہے کہ طلاق چاہیے اور کبھی کسی نے آکر جو مرکزی وجوہات ہوتی ہیں وہ بیان نہیں کیں، جیسے ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا، مزاج کا نہ ملنا، عادات و فطرت کا اختلاف، ناپسند سے شادی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے سارے وکلا اپنے کلائنٹس سے نکاح نامہ، فہرست سامان جہیز، شناختی کارڈ اور ایک دو سفید کاغذات پر انگوٹھے و دستخط لے کر اپنے منشی کو فائل تیار کرنے کو دیتے ہیں، جو  عدالتوں میں کمپوزنگ ٹائپنگ شاپ پر جاتا ہے اوروہ ٹائپسٹ کمپیوٹر میں پہلے سے محفوظ کوئی سا بھی خلع یا طلاق کا دعویٰ کھولتا ہے ،بس اوپر نام بدلتا ہے اور نیچے وہی الزامات ایک ٹرینڈ یا ہیش ٹیگ کی طرح  چل رہے ہوتے ہیں کہ مار پیٹ کرتا ہے، خرچ نہیں دیتا، کردار پر الزامات اور شک کرتا ہے اور نباہ ممکن نہیں ہے اور مدعیہ (بیوی) مدعا علیہ (شوہر) کے ساتھ رہنے کے بجائے موت کو ترجیح دے گی اور خلع کا دعویٰ دائر۔

ایک نے تو کمال کردیا۔ اس کا الزام جو مجھے نیا لگا وہ یہ تھا کہ میرا شوہر اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کا پاسورڈ مجھے نہیں دے رہا اور خود تو برانڈڈ کوٹ سوٹ پہنتا ہے اور جب میں برانڈز کی  ڈیمانڈ کروں تو کہتا ہے کہ پیسے تو گھر میں لگ جاتے ہیں، گھر کا خرچہ بہت ہے، بجلی کا بل بہت آگیا اور مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے۔ وہ مجھے اپنے موبائل، لیپ ٹاپ اور ای میل کا پاسورڈ نہیں دے رہا اور ہماری اس بات پر کئی دفعہ لڑائی بھی ہوئی ہے۔ کیا مجھے عدالت سے انصاف مل سکتا ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میاں بیوی ایک دوسرے ہے کہ وہ بیوی کو کرتا ہے سکتا ہے جاتا ہے کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت