Jasarat News:
2026-07-24@06:19:18 GMT

قوم کے سامنے ایک اور بڑا سوال

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-03-3
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کا فیصلہ وطن عزیز کی تاریخ کا اہم فیصلہ ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل (ر) فیض حمید پر چار الزامات ثابت ہوئے جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور بعض افراد کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ یہ الزامات کسی معمولی سرکاری افسر پر نہیں بلکہ اس شخصیت پر عائد کیے گئے ہیں جو برسوں تک ریاست کے سب سے حساس خفیہ ادارے کی سربراہی کرتا رہا۔ یہی حقیقت اس معاملے کو غیر معمولی بنا دیتی ہے اور قوم کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ اگر یہ سب کچھ درست ہے تو یہ سرگرمیاں اس وقت کیوں نظر انداز ہوتی رہیں جب اختیار اور طاقت اپنے عروج پر تھے؟ ریٹائرمنٹ کے بعد خفیہ سرکاری دستاویزات اپنے پاس رکھنے کا الزام سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ اگر واقعی ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے پاس ایسی دستاویزات موجود تھیں جن کا وہ مجاز نہیں تھا تو یہ ریاستی سلامتی کے تصور پر ایک سنجیدہ ضرب ہے۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ہمارے اداروں میں ریٹائرمنٹ کے بعد نگرانی اور احتساب کا نظام کتنا مؤثر ہے۔ کیا حساس عہدوں پر فائز رہنے والوں کے لیے کوئی واضح اور سخت فریم ورک موجود ہے یا سب کچھ انفرادی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے؟ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام اس مقدمے کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔ 2023ء میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد حساس عہدوں پر کام کرنے والے افسران کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاست سے دور رہنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اگر ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے درجنوں سیاستدانوں سے روابط رکھے، تو یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی سمجھی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کی سیاسی کشیدگی، عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضا کے بیج اسی دور میں بوئے گئے تھے؟ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ اس کیس کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ ریاستی اداروں کے ذریعے چھاپا، قیمتی سامان کی ضبطی اور پھر مبینہ طور پر اس کی واپسی کے بدلے مالی مطالبات، اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ ریاستی طاقت کے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کی بدترین مثال ہے۔ اس نوعیت کے واقعات شہریوں کے ریاست پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ طاقتور کے لیے قانون مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے ایک سابق ملازم کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک واقعے یا ایک غلط فیصلے تک محدود نہیں بلکہ اختیارات کے مسلسل اور بے لگام استعمال کا عکس ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر اس طرزِ عمل کی روک تھام کیوں نہ ہو سکی؟ یہ صورت حال ایک اور اہم سوال کو جنم دیتی ہے، کیا ہم آج کسی ایسے کردار کا احتساب کر رہے ہیں جس کے اثرات برسوں پہلے ملک کی سیاست اور ریاستی ڈھانچے پر مرتب ہو چکے ہیں؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ خفیہ طاقتوں کے فیصلوں کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ دہائیوں بعد ان کے مضمرات قوم بھگتتی ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ کہیں ہم ایک اور ایسے دور کے انجام کو نہ دیکھ رہے ہوں جس کی اصل کہانی ابھی مکمل طور پر لکھی ہی نہیں گئی۔ اس مرحلے پر سب سے زیادہ ضرورت شفافیت کی ہے۔ محض سزاؤں کے اعلانات کافی نہیں ہوتے، قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ الزامات کی نوعیت کیا تھی، شواہد کیا تھے اور نظام کہاں ناکام ہوا۔ اگر احتساب واقعی بے لاگ اور غیر جانبدار ہے تو اس کی تفصیلات بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہئیں۔ ادھورا سچ اعتماد بحال نہیں کرتا بلکہ مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ وقت خود احتسابی کا بھی ہے۔ اداروں کے لیے، نظام کے لیے اور ریاست کے مجموعی تصور کے لیے۔ اگر ہم نے اس معاملے کو صرف ایک فرد تک محدود کر دیا اور اس سے جڑے ساختی مسائل کو نظر انداز کر دیا تو بعید نہیں کہ چند برس بعد ایک اور طاقتور نام اسی طرح زیر ِ بحث آ جائے۔ اصل امتحان یہی ہے کہ کیا یہ واقعہ ایک مثال بنے گا یا محض ایک اور فائل جسے وقت کی گرد ڈھانپ دے گی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی ایس ایک اور کے بعد کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف