1971 کی جنگ میں لیفٹیننٹ سالار بیگ کی بہادری کی داستان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
1971 کی جنگ میں مشرقی اور مغربی محاذوں پر پاکستان آرمی کے جوانوں نے بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔
1971 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاک فوج کےغازی لیفٹیننٹ کرنل سلمان بیگ (ریٹائرڈ) نے 1971 کی جنگ کی آپ بیتی اور لیفٹیننٹ سالار بیگ کی بہادری کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ 1971 کی جنگ کے دوران میرے بڑے بھائی سالار بیگ، لیفٹیننٹ تھے۔
سالار اکتوبر 1971 میں مشرقی پاکستان میں تعینات ہوئے، میرے والد صاحب فوجی تھے، ان کا ایمان بہت پختہ تھا، 21 نومبر 1971 کو بھارت نے ایسٹ پاکستان پر حملہ کر کے جنگ شروع کی۔
بھارت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مکتی باہنی سے مطلوبہ کامیابی نہیں ملی، غریب پور میں بھارت نے 14 پنجاب اور 45 کیلوری سکواڈرن بھیجے۔ ہمارے بریگیڈ کمانڈر، بریگیڈیئر محمد حیات کو خبر ملی تو کہا، بھارتی فوج کو جوابی کارروائی سے واپس بھیجتے ہیں۔
جب ہماری فوج پہنچی تو معلوم ہوا بھارت ٹینک لے کر تیار ہے، ہم نے جوابی کارروائی میں بھارت کے چھ ٹینک تباہ کیے۔ میرے بھائی سالار فرنٹ لائن پر تھےاور انہوں نےبھارت کے دو ٹینک تباہ کیے۔
یہ دیکھ کر بھارت نے اپنے باقی ٹینک پیچھے ہٹا لیے، اس کارروائی کے دوران ہمارا ایک ٹینک، جو سکواڈرن کمانڈر کا تھامحفوظ رہا۔ سکواڈرن کمانڈر نے سالار بیگ کو کہا کہ وہ آ کر ٹینک کا چارج سنبھالیں۔
سالار کو ایک اور ٹینک ملا جو فارورڈ آبزرورکا تھا، اور دونوں ٹینکوں کو سالار نے 25 دن تک کمانڈ کیا، میجر مسعود الحسن نے سالار کو پیچھے جانے کو کہا، تو سالار نے جواب دیا، "میرے پاس ابھی دو گولے باقی ہیں، یہ جنگ مکمل کرنی ہے"۔ 15 دسمبر کو بھارت کا ایک نئے سکواڈرن ٹینک کے ساتھ آگے بڑھا جبکہ سالار کے پاس دو ٹینک اور ایک کمپنی تھی۔
بھارتی فوج رینج میں آئی تو سالار نے ان کے دو ٹینک مار کر انہیں چھپنے پر مجبور کیا۔ بھارتی فوج نے پھر دور سے فائرنگ شروع کر دی۔ سالار کے دو گولے ختم ہو چکے تھے، مگر وہ ٹینک کےکپولا میں کھڑے ہو کر مشین گن سے فائر کرتے رہے۔
سالار نے بھارت کی انفنٹری کو بہت نقصان پہنچایا، دشمن کی جوابی کارروائی کے دوران سالار بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
لیفٹیننٹ کرنل سلمان بیگ (ریٹائرڈ) نے بتایا کہ 15 دسمبر 1971 کو سالار کی تدفین کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سالار بیگ سالار نے کی جنگ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔