ورزش کے لیے جم جانا بالکل بھی ضروری نہیں۔  آپ گھر پر رہتے ہوئے بھی سادہ ورک آؤٹ کرکے فٹ رہ سکتے ہیں۔

گھر پر ورزش نہ صرف وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ آرام دہ ماحول میں باڈی کو فٹ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ  باقاعدہ ہوم ورک آؤٹ کرنے سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے، وزن قابو میں رہتا ہے اور توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

آسان ہوم ورک آؤٹ رُوٹین

روزانہ صرف 30 منٹ کی ورزش جسمانی صحت کے لیے کافی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہلکی اسٹریچنگ، اسکواٹس، لینجز اور پش اپس کو روزانہ کی ورزش میں شامل کیا  جا سکتا ہے۔

اسکواٹس: ٹانگوں اور کولہوں کے لیے بہترین۔

پش اپس: سینہ اور بازوؤں کو مضبوط کرتے ہیں۔

لینجز: ٹانگوں اور جسم کے توازن کے لیے مددگار۔

پلینک: پیٹ اور کور کے لیے مؤثر ورزش۔

بغیر آلات کے ورزش

کچھ لوگ جم یا آلات کے بغیر ورزش کرنے میں ہچکچاتے ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ورزش کے لیے درکار وزن کے لیے صرف جسمانی وزن ہی کافی رہتا ہے۔

سیڑھیوں پر چڑھنا

واک یا جاگنگ (صحن یا بالکونی میں)

ہلکا ڈانسنگ ورک آؤٹ

یہ تمام آسان طریقے گھر پر فٹ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔

ورزش کے ساتھ خوراک کا توازن

ورزش کا اثر تب ہی زیادہ ہوتا ہے جب خوراک متوازن ہو۔ ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ پروٹین، سبزیاں، پھل اور ہلکی کاربوہائیڈریٹس ورزش کے ساتھ شامل کریں تاکہ پٹھے مضبوط رہیں اور توانائی برقرار رہے۔

پانی زیادہ پینا بھی ضروری ہے تاکہ ورزش کے دوران ہائیڈریشن برقرار رہے۔

ہوم ورک آؤٹ نہ صرف جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ دماغی سکون، توانائی اور روزمرہ کے کاموں میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ صرف 30 منٹ روزانہ، صحیح ورزش اور متوازن خوراک سے آپ گھر بیٹھے ہی فٹ اور توانائی سے بھرپور رہ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوم ورک آؤٹ ورزش کے کے لیے گھر پر

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ