Juraat:
2026-07-24@13:07:05 GMT

کراچی یونیورسٹی کی قیمتی اراضی لینڈ مافیا کے نشانے پر

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

کراچی یونیورسٹی کی قیمتی اراضی لینڈ مافیا کے نشانے پر

وائس چانسلر خالد عراقی عملی اقدامات سے گریزاں، لینڈ مافیا کے حوصلے بڑھنے لگے
قیمتی اراضی پر پیٹرول پمپ کی تعمیر تکمیل کے آخر مراحل میں، مٹھائی کی تقسیم کے دعوے

کراچی یونیورسٹی کی قیمتی اراضی ،لینڈ مافیا کے نشانہ پر آگئی ہے۔بدقسمتی سے وائس چانسلر خالد عراقی کی نااہلی اور عملی اقدامات سے گریزاں ہونے کے باعث لینڈ مافیا کے حوصلے مسلسل بڑ ھ رہے ہیں۔ اگرچہ وائس چانسلر نے زمین بچانے کے لیے ا عدالت سے رجوع کرنے کے دعوے تو کئے ہیں ، مگر دوسری جانب اپنی مبینہ فرنٹ مین اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کے ذریعے ، پیٹرول پمپ تعمیر کرنے والی پارٹی کو کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات بھی کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ خالد عراقی نے لینڈ مافیا کو مبینہ طور پر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انہوں نے دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کوپروفیسر قدیر محمد علی اور ڈاکٹر اکمل وحید کے ذریعے قابو کر لیا ہے ، عدالت کے کور میں کام جلد از جلد مکمل کر لیں تو بہتر ہے ، اب کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہیںاور لینڈ مافیا کا یہ اقدام کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ چند مہینے قبل کراچی یونیورسٹی کی جس قیمتی اراضی پر ایک پیٹرول پمپ کی تعمیر کا آغاز ہوا،وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ،پمپ تعمیر کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس زمین پر تعمیرات کا آغاز ، وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی اور اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کو اعتماد میں لیکر شروع کیا ہے ، تعمیرات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان کاموں کے لیے مٹھائی بھی تقسیم کی تھی جس کے بعد یہ جگہ لیز پر حاصل کی جا سکی ہے ۔واضح رہے کہ ان مجرمانہ کاموں کی سر پرستی ہمیشہ یونیورسٹی کے اندر سے ہی ہوئی ہے اور ہر دور کے لیگل ایڈوائزر اور اسٹیٹ آفیسر نے ہمیشہ لینڈ مافیا کی مبینہ” مٹھائی” کے عوض ان عناصر کی مدد کی ، اس بہتی گنگا میں سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد ، مفتی نعیم مرحوم ، اویس مظفر ٹپی ، ہاتھ دھو چکے ہیں ، گزشتہ چند سالوں میں سنڈیکیٹ کا رکن بننے والے ، سیاسی ، مذہبی ،سماجی پس منظر رکھے والی شخصیات صرف اور صرف یونیورسٹی کی قیمتی اراضی پر قبضہ کے لئے سنڈیکیٹ کا رکن بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں ، یہی عمل آج 2025میں بھی ہورہا ہے ، پیٹرول پمپ کی تیزی سے تعمیر اس بات تصدیق ہے کہ وائس چانسلر زمین بچانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ٫ اور پیٹرول پمپ کے مالک نے جنوری 2026 میں اس کے افتتاح کا اعلان کیا ہے ، وائس چانسلر خالد عراقی کا ، یونیورسٹی کے وکیل آصف مختار ، اور اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کو ان کے عہدوں سے علیحدہ نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ ، اس دھندے میں سب ملوث ہیں ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، اس معاملہ کی تحقیقات ، ایف آئی اے یا نیب سے کروانے کے اقدامات کریں ، تو شاید جامعہ کی زمین بچائی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کراچی یونیورسٹی کی لینڈ مافیا کے اسٹیٹ ا فیسر قیمتی اراضی وائس چانسلر پیٹرول پمپ خالد عراقی

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق