امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ، پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس میں واقع براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے میں دو طلبہ ہلاک جبکہ نو زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اس عمارت میں پیش آیا جہاں فائنل امتحانات جاری تھے۔
پروویڈنس کے میئر بریٹ اسملی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے بعد کیمپس میں نافذ شیلٹر اِن پلیس کا حکم ختم کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق فی الحال کسی دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کی جا رہی۔
میئر کے مطابق زخمی ہونے والے نو افراد میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، سات مستحکم حالت میں ہیں جبکہ ایک طالب علم کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسَن نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ تمام 11 متاثرین یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ یونیورسٹی کمیونٹی کے لیے نہایت افسوسناک اور صدمہ خیز ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے بعد طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی طلبہ نے عمارتوں میں چھپ کر جان بچائی۔ واقعے کے بعد اتوار کو ہونے والے فائنل امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے اور متاثرین کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔