پنجاب میں احتجاج کےحوالےسےحکومت کانیاقانون تیار
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
عرفان ملک : پنجاب میں احتجاج اور عوامی اجتماعات سے متعلق نیا قانون تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ہائی سکیورٹی زونز قائم کیے جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق ہائی سکیورٹی زونز میں جلسے، جلوس اور ہر قسم کے احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
قانونی مسودے کے مطابق ہائی سکیورٹی زونز میں بغیر اجازت اجتماع کرنے پر ایک سے تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ نامزد علاقوں میں کسی بھی قسم کے اجتماع کے لیے ڈپٹی کمشنر سے پیشگی اجازت لینا لازم ہوگا، جبکہ اجازت کے بغیر اجتماع کرنے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بسنت کی اجازت، پنجاب حکومت کو 22 دسمبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت
مسودے کے مطابق نان ڈیزگنیٹڈ علاقوں میں بھی بغیر اجازت اجتماع کرنے پر چھ ماہ سے ایک سال تک قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اگر کسی اجتماع کے دوران سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تو نقصان کی مالیت کے برابر اضافی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔
قانون میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ عوامی اجتماعات سے متعلق جرائم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا جائے، جبکہ پولیس کو قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کا نیا بیان
ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور حساس علاقوں میں سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ہے، تاہم مجوزہ قانون پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔