data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں ادارے کے ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے لیے سیسی ہیڈآفس میں ’’لیڈرشپ اور مینیجریل ایکسیلینس‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ تربیتی سیمینار کے مہمان خصوصی وائس کمشنر سندھ سوشل سیکورٹی سکندر بلوچ تھے۔ سیمینار میں ادارے کے تمام فیلڈ ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے علاوہ ہیڈ آفس کے افسران نے بھی شرکت کی۔ سیمینار میں سینئر ٹرینر اور انسانی وسائل و صنعتی تعلقات کے ماہر امجد علی شاہ بخاری نے شرکاء کو لیڈر شپ اور منیجریل ایکسیلنس پر خصوصی لیکچر دیا۔ سیمینار کاآغاز تلاوت کلام سے ہوا۔ تعارفی خطاب میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ و تربیت تحقیق وسیم جمال نے تمام شرکاء اور بالخصوص امجد علی بخاری اور مہمان خصوصی وائس کمشنر سکندر بلوچ کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اس تربیتی سیشن کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کہ طویل عرصہ بعد دوبارہ سے ادارے میں افسران و اسٹاف کے لیے تربیت پروگرامز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اب یہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔وائس کمشنر سکندر بلوچ نے افتتاحی خطاب میں ٹریننگ کی اہمیت اس کی افادیت پر زور دیا اور ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے اس اقدام کو بہت سراہا اور کہاکہ اس طرح کے تربیتی پروگرام وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہنے چاہئیں۔ وائس کمشنر نے کہاکہ آج کے تربیتی سیمینار کا مقصد افسران کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے تا کہ ادارہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی خدمات کو مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔ سیمینار سے ڈائریکٹر کنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ ڈاکٹر غلام دستگیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارہ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرام طویل عرصہ بعد دوبارہ شروع کیے گئے ہیں جو ایک احسن اقدام ہے۔ سابق ڈائریکٹرز پبلک ریلیشن منصور معطر نے اپنے تجربات کی روشنی میں ٹریننگ کی اہمیت اور اس کی افادیت کو اجاگر کیا۔ پروگرام کے آخر میں وائس کمشنر سیسی سکندربلوچ اور لیکچرار امجد علی شاہ بخاری نے تربیتی سیمینار کے شرکاء ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز تربیتی سیمینار سیمینار کا وائس کمشنر

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا