فیض حمید کی سزا فوج کا اندرونی معاملہ ہے‘صاحب اختیار کی پالیسی عمران خان کو مائنس کرنا ہے ‘وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ فیض حمید کی سزا فوج کا اندرونی معاملہ ہے‘صاحب اختیار کی پالیسی بانی پی آئی کو مائنس کرنا ہے، یہ ہمیشہ سے ایک ہی نسخہ آزماتے رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر داہگل ناکے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا ایسی قوم سے واسطہ پڑا ہے جوعمران خان سے عشق کرتی ہے، ہمارے کارکن ڈرنے اور جھکنے والے نہیں۔وزیراعلیٰ نے پولیس افسران سے کہا کہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کے لیے آپ بارڈر لگا رہے ہیں، آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں ؟ پرسوں بھی روکا ہے آج بھی،پرسوں خواتین کے ساتھ آپ نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا، عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی خواتین ہیں، آپ لوگوں کو یہ آرڈرز کون دیتا ہے؟سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے آپ نے بیرئیر کھڑے کیے ہیں، میں کسی دوسرے ملک کا وزیراعلیٰ نہیں آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ ہے میں وہاں کا وزیراعلیٰ ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم یہاں آتے ہیں آرام سے بیٹھتے ہیں کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے، آپ لوگ کیا دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہو کہ کے پی پاکستان کا حصہ نہیں؟ آپ لوگ حالات کو کہاں لے جارہے ہیں؟ اپنے بڑوں کو سمجھائیں اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے احکامات پر یہ سب کیا گیا، بانی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا، بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا یہ یاد رکھا جائے گا، یہ لوگ تصدیق شدید چور ہیں، جب ہماری حکومت آئے گی اس کا حساب کتاب کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے دروازے بات چیت کے لیے کھلے ہیں، یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں ہے، ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی ہے، ہم آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بقول ہم روڈ پر جب مرضی بیٹھیں یہ کون ہوتے ہیں کہنے والے کب تک بیٹھنا ہے، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات اور احتجاج کا حق محمود خان اچکزئی کو دیا ہے، محمود اچکزئی کو ان کے ہر فیصلے پرعملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کہتا تھاکہ اسے 30 فیصد بھی سپورٹ ملے تو پاکستان کو یورپ بنا دوں گا، وہ تو ان کے لیے پریس کانفرنس بھی کرتے ہیں۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے، حکومت 5300 ارب کی چوری کا حساب دے، ملک کا یہ حال ہے فیکٹریاں بند، نوجوان بیرون ملک بھاگ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی ہے، پاکستان کے مفاد میں جو ہوگا ہم وہی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے کہا کہ رہے ہیں ا پ لوگ کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :