خیبر پختونخوا میں نیا نظام متعارف، گاڑی کا نمبر اب شہری کی ملکیت ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے باضابطہ طور پر ’’پرسںلائزڈ رجسٹریشن مارک سسٹم‘‘ کا اجراء کر دیا۔ نئے نظام کے تحت گاڑی فروخت ہونے کے بعد بھی نمبر پرانا مالک اپنے پاس رکھ سکے گا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں نیا نظام متعارف کروا دیا گیا جس کے تحت اب گاڑی کا نمبر گاڑی کے بجائے شہری کی ملکیت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے باضابطہ طور پر ’’پرسںلائزڈ رجسٹریشن مارک سسٹم‘‘ کا اجراء کر دیا۔ نئے نظام کے تحت گاڑی فروخت ہونے کے بعد بھی نمبر پرانا مالک اپنے پاس رکھ سکے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ نیا ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم جعلی نمبر پلیٹس اور کلوننگ کے خاتمے میں مدد دے گا، پرسنلائزڈ رجسٹریشن سسٹم سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل تیز، شفاف اور کرپشن فری ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے، محکمہ ایکسائز گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے بھی آن لائن سسٹم بنائے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ’’پی آر ایم‘‘ سسٹم سے گاڑیوں کی غیر قانونی استعمال میں کمی آئے گی، وہیکلز کے نئے رجسٹریشن نظام کے تحت نمبر پلیٹ گاڑی کے بجائے شہری کی ملکیت ہوگی، شناختی کارڈ یا موبائل نمبر کی طرح شہری گاڑی کے نمبر کا مالک ہوگا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جب گاڑی فروخت ہوگی تو نمبر بغیر کسی فیس کے فروخت کنندہ کے پاس ہی رہے گا، خریدار نئے نمبر کے لیے خود اپلائی کرے گا۔ شہری اپنا نمبر تین سال تک بغیر کسی گاڑی پر لگائے اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ ایکسائز کے لیے منشیات کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے طرز پر شہید پیکج کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں پر محکمہ ایکسائز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جلد منشیات سے پاک خیبرپختونخوا دیکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث ہر شخص کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے، اس ناسور کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا وزیر اعلی کے خلاف کے تحت
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :