زچگی کے دوران انتقال کرنے والی ٹک ٹاکر پیاری مریم کے جڑواں بچوں کی حالت خطرے سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اپنے منفرد کانٹینٹ کی وجہ سے مشہور ہونے والی ٹک ٹاکر پیاری مریم دوران زچگی انتقال کرگئیں تاہم ان کے دونوں بچوں حالت خطرے سے باہر ہے۔
پیاری مریم کے شوہر احسن علی نے اہلیہ کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور بتایا تھا کہ اچانک طبیعت خراب ہونے کے باعث انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ انتقال کرگئیں تھیں۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور انفلوئنسر غمزدہ ہوئے جنہوں نے پیاری مریم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلیے دعا کی۔
اس کے بعد اُن کے بچوں سے متعلق افواہیں پھیل رہی تھیں کہ اس دوران پیاری مریم کے شوہر احسن نے بتایا کہ اُن کے ہاں دو لڑکوں کی پیدائش ہوئی اور دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ مریم کی مغفرت کیلیے دعا کریں اور بچوں کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیاری مریم
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔