فیض حمید کو سزا فوج کا اندرونی معاملہ، راستے میں بیریئر لگا کر نفرت نہ پھیلائیں، سہیل آفریدی: ڈرنے والے نہیں، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
راولپنڈی‘ پشاور (جنرل رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ فیض حمید ایک ادارے کا ملازم ہے اگر کسی معاملے پر انہیں سزا ہوئی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اڈیالہ جیل جاتے ہوئے راولپنڈی پولیس کی جانب سے داہگل ناکے پر روکے جانے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پولیس افسران سے کہا کہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کے لیے آپ بارڈر لگا رہے ہیں، آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرسوں خواتین کے ساتھ آپ نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا، عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی خواتین ہیں، آپ لوگوں کو یہ آرڈرز کون دیتا ہے؟ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے آپ نے بیرئیر کھڑے کیے ہیں، میں کسی دوسرے ملک کا وزیراعلیٰ نہیں آپ لوگ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ ہے میں وہاں کا وزیراعلیٰ ہوں۔ آپ لوگ حالات کو کہاں لے جارہے ہیں؟ اپنے بڑوں کو سمجھائیں اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے احکامات پر یہ سب کیا گیا، بانی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا، بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا یہ یاد رکھا جائے گا، یہ لوگ تصدیق شدہ چور ہیں، جب ہماری حکومت آئے گی اس کا حساب کتاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے کوشش کی جارہی ہے مائنس عمران خان کیا جائے، یہ 1947ء سے ایک ہی نسخہ بار بار آزماتے ہیں، نو اپریل 2022ء سے ان کا واسطہ ایسی قوم سے پڑا ہے جو بانی سے عشق کرتے ہیں، صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو آئیں ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ کسی کے باپ کا نہیں ہمارا پاکستان ہے، ہم آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں، حکومت کی کارکردگی یہ ہے نوجوان پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، ساڑھے تین سال سے کیا جانے والا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے، پاکستان تباہی کی طرف جارہا ہے، ہمارا کسی سے کوئی بغض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، میرا اپنے لیڈر سے ملنے آتا ہوں یہ میرا جمہوری حق ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلوں نے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے،وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا جس میں طلبہ سے براہِ راست ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ کی تجاویز سنیں اور یونیورسٹی کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو عملی اقدامات کی ہدایت دی۔اس موقع پر وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ایچ پی کے تحت وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں جبکہ این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے واجب الادا ہیں، ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر سات سال میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے اور 532 ارب اب بھی بقایا ہیں۔ اس موقع پر اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب کی اپ گریڈیشن اور اکنامکس، پولیٹیکل سائنس اور آئی ایم سٹڈیز کے لیے 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا۔ دریں اثناء علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی حق پر اور ڈٹ کر کھڑا ہے، بانی پی ٹی آئی اللہ کی حفاظت میں ہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر نعرے لگانے والے گیڈر ہیں، بشریٰ بی بی سے 2 ماہ میں 40 منٹ اور بانی سے ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی ہے، ہم واٹر کینن سے گھبرانے والے نہیں، ہم پر تین مرتبہ پانی سے حملہ سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اینکر ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا علیمہ خان کو پانچ سال سزا ہوگی، آئین اور قانون مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں اظہار رائے کر سکوں، آپ گولیاں چلائیں گے تو ہم شہید ہوں گے اور ہم اب ڈرنے والے نہیں۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جو خود پاکستان سے غداری کر رہے ہیں وہ ہم کو غدار کہتے، یہ ہمارے لیے تمغہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل ا فریدی کہنا تھا کہ علیمہ خان کہا ہے کہ ارب روپے رہے ہیں کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔