شارٹ فال: ریونیو اقدامات کئے‘ اخراجات روک دینگے‘ آئی ایم ایف کو یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد (عترت جعفری) آئی ایم ایف نے قرض کی قسط کے اجراء کے ساتھ پاکستان کے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ اور لیٹر اف انٹنٹ کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں ،پاکستانی حکام نے ائی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ اگر دسمبر میں بھی ریونیو کا شارٹ فال جاری رہا تو مزید ریونیو اقدامات کیے جائیں گے۔ اخراجات میں کمی کر دی جائے گی یا انہیں مکمل روک دیا جائے گا،بجلی کے سالانہ ٹیرف کی ری بیسنگ جون کی بجائے اب جنوری 26 میں کی جائے گی اس وقت چونکہ بجلی کی طلب کم ہوتی ہے اس لیے ٹیرف میں اضافہ کا اثر صارفین کو اسان محسوس ہوگا،،دسمبر میں اعلی بیوروکریسی کے اثاثوں کی تفصیلات حکومتی ویب سائٹ پر جاری کر دی جائیں گی،دوسرے مرحلے میں صوبوں کی اعلی بیوروکریسی کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا اور بینکوں کو ان کے تمام اثاثوں کی ڈیکلریشن تک رسائی دے دی جائے گی۔ کوانٹٹی ٹیٹو اہداف کی تعداد سات تھی جن میں چھ پورے کیے گئے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو ائی ایم ایف پروگرام پر بروقت عمل جاری رکھنا چاہیے تاکہ پائیدار ترقی کے لیے مدد مل سکے, پاکستان اگر موسمیاتی سپورٹ فنڈ کے تحت پالیسیوں پر عمل درامد کو جاری رکھے گا تو تباہی کے خطرے میں کمی ائے گی ، پانی کی مینجمنٹ بہتر ہوگی۔ گیس کے سرکلر ڈیٹ میں 86 ارب روپے کی کمی آئی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اخراجات مقررہ ہدف سے کم رہے پاکستان نے جو چار کوانٹیٹیٹو پرفارمنس اہداف پورے نہیں کیے ان میں ایف بی ار کی نیٹ ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی شامل ہے، کرم کش ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی کے ہدف کو بھی پورا نہیں کیا گیا، جی ڈی پی میں 0.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔