یورپی یونین کا پاکستان کے ساتھ سکلز ڈویلپمنٹ تعاون جاری رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
یورپی یونین کا پاکستان کے ساتھ سکلز ڈویلپمنٹ تعاون جاری رکھنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور ٹی وی ای ٹی سیکٹر سپورٹ پروگرام کے زیرِ اہتمام ’’مستقبل کیلئے تیار ہنر مند افرادی قوت کیلئے پاکستان کے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) نظام کی مشترکہ تخلیق‘‘ کے عنوان سے پہلی سالانہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کروبلس، چیئرپرسن نیوٹک گلمینہ بلال احمد، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، نائب صدر طارق جدون، قراۃالعین، چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم سکلز ڈویلپمنٹ کے ذریعے ملک کی معاشی تقدیر بدلنے کے مشن میں شراکت دار بنے ہیں۔ نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی اسکلز ڈویلپمنٹ اور ووکیشنل ٹریننگ پر خصوصی توجہ دینے کا وقت آ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف پی سی سی آئی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان پائیدار مکالمے اور مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کو اولین ترجیح سمجھتا ہے۔ صنعتی شعبوں کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل، زراعت اور ہوسپیٹیلٹی وہ شعبے ہیں جہاں مہارت یافتہ افرادی قوت ملک کی ترقی کی رفتار تیز کر سکتی ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے اعلان کیا کہ ایف پی سی سی آئی کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے مختلف چیمبرز اور تاجر تنظیموں کے ایک ہزار ممبران کیلئے ویب بیسڈ ٹریننگ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کروبلس نے کہا کہ یورپی یونین، پاکستان اور نیوٹک کے ساتھ سکلز ڈویلپمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ٹیوٹ جیسے پروگرامز کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ پاکستان میں ہنرمند ورک فورس تیار ہو سکے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ جرمنی، برٹش کونسل اور دیگر یورپی پارٹنرز پاکستان کے ساتھ مختلف ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی ضروریات اور ٹیکنالوجی ٹرانسفارمیشن کیلئے پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یورپی یونین مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ سکلز ڈویلپمنٹ کے حوالے سے تعاون جاری رکھے گا۔
سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں کا خطاب
سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس کا مقصد انڈسٹری کی ضروریات اور نوجوانوں کی سکلز کے درمیان خلا کو پر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکلز ڈویلپمنٹ کے فروغ کیلئے اکیڈیمیا اور انڈسٹری میں قریبی تعاون انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل، زراعت اور ہوسپیٹیلٹی وہ کلیدی گروتھ سیکٹرز ہیں جن کیلئے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ملک کی ترقی کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پہلی بار ایف پی سی سی آئی ایک ہزار ممبران کو باقاعدہ ٹریننگ فراہم کرے گا۔
کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین نے مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کیلئے جدید سکلز، معیاری تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرطانیہ میں جنسی زیادتی کے کیس میں 2 افغان شہریوں کو سزا سنادی گئی برطانیہ میں جنسی زیادتی کے کیس میں 2 افغان شہریوں کو سزا سنادی گئی جسٹس طارق کی ڈگری تنازع کیس؛ ایچ ای سی رپورٹ و جامعہ کراچی کے جواب میں اہم انکشافات الیکشن کمیشن فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرے، اسلام آباد آزاد گروپ کا مطالبہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا اعلامیہ جاری پاکستان جلد قرضوں سے مکمل نجات حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل ہوگا، وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6ناموں کی فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ یورپی یونین
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔