بھارت خود فریبی میں نہ رہے، اگلا جواب زیادہ شدید: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا جب کہ بھارت کو خبردار کیا کہ وہ کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا۔ جی ایچ کیو میں تقریب کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تینوں مسلح افواج کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے۔ فیلڈ مارشل نے بڑھتے خطرات کے سبب تینوں مسلح افواج متحد نظام کے ساتھ کام کریں، بڑھتے، بدلتے خطرات کے پیش نظر ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں۔ مزید کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے، ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کے لیے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی۔ ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط کرے گا، تینوں افواج اپنی اندرونی خودمختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔ آرمی چیف نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ طالبان رجیم کو پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج یا پاکستان کے سوا کسی ایک کے انتخاب کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سب جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے، پاکستان کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے۔ قبل ازیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ تقریب بطور پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔ چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر سٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت اعلیٰ عسکری افسر بھی شریک ہوئے، تینوں مسلح افواج کے اعزازی دستہ کی جانب سے مہمان خصوصی کو جنرل سلامی پیش کی گئی۔ مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعزازی دستے کا معائنہ بھی کیا۔ تاریخ میں پہلی بار چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تینوں مسلح افواج کے دستوں کی جانب سے سلامی پیش کی گئی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں، ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے، ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کیلئے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی۔ ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا، بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔ طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے پاس فتنہ الخوارج پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تینوں مسلح افواج ف ڈیفنس فورسز تینوں افواج افواج کے کی جانب چیف ا ف کہا کہ اپنی ا چیف آف
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :