data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-08-8

 

کراچی(اسٹاف  رپورٹر)کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی بحالی کیس کی سماعت کے دوران جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ نے سینئر ممبر سندھ ریونیو بورڈ کے ایم سی لانڈھی

کاٹیج انڈسٹریز کی سروے رپورٹ کے ساتھ عدم حاضری پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا اور 10 روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے 11دسمبر کو لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے کیس میں 2334 پلاٹوں کی سروے رپورٹ کے ساتھ سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو طلب کیا تھا ،عدالت نے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور ریونیو بورڈ کے حاضر جونیئر افسران سے سخت سوالات کیے، عدالت نے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ 14 ماہ سے باربار وقت مانگا جا رہا ہے اور ہر مرتبہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، ریونیو کے آفیسر رپورٹ نہ آنے کا یہ عذر پیش کیا کہ کے ایم سی نے 245 ایکڑ زمین رہنے کے بعد اس سے کئی گناہ زیادہ زمین کاٹیج انڈسٹریز کے لیے الاٹ کر دی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ جب لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کے اشتہارات شائع ہو رہے تھے پلاٹوں کی بیلٹنگ ہو رہی تھی اس وقت آپ کہاں سوئے ہوئے تھے؟آپ کے سینئر افسران کہاں ہیں جس پر اس آفیسر نے کہا کہ ہمارے سینئر ریوینیو آفیسر نئے آئے ہیں اس لیے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، عدالت نے اس پر سوال کیا کہ نئے سینئر آفیسر کو عدالت کا راستہ معلوم نہیں اس طرح کے فضول جواب قابل قبول نہیں ہیں،کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے کیس کی پیروی ممتاز قانون دان عثمان فاروق نے کی۔ اس موقع پر 33 سال سے التوا کا شکار کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آئینی پٹیشن کے پٹیشنر محمود حامد، سینئر وائس چیئرمین اقبال احمد،محمد رضوان اور الاٹیز کی بڑی تعداد بھی ہائی کورٹ میں موجود تھی۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینئر ممبر ریونیو بورڈ کاٹیج انڈسٹریز کی کے ایم سی لانڈھی عدالت نے ا فیسر

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم