لانڈھی کاٹیج انڈسٹری کیس‘عدالت کا سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو شو کاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-8
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی بحالی کیس کی سماعت کے دوران جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ نے سینئر ممبر سندھ ریونیو بورڈ کے ایم سی لانڈھی
کاٹیج انڈسٹریز کی سروے رپورٹ کے ساتھ عدم حاضری پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا اور 10 روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو نے 11دسمبر کو لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے کیس میں 2334 پلاٹوں کی سروے رپورٹ کے ساتھ سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو طلب کیا تھا ،عدالت نے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور ریونیو بورڈ کے حاضر جونیئر افسران سے سخت سوالات کیے، عدالت نے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ 14 ماہ سے باربار وقت مانگا جا رہا ہے اور ہر مرتبہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، ریونیو کے آفیسر رپورٹ نہ آنے کا یہ عذر پیش کیا کہ کے ایم سی نے 245 ایکڑ زمین رہنے کے بعد اس سے کئی گناہ زیادہ زمین کاٹیج انڈسٹریز کے لیے الاٹ کر دی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ جب لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کے اشتہارات شائع ہو رہے تھے پلاٹوں کی بیلٹنگ ہو رہی تھی اس وقت آپ کہاں سوئے ہوئے تھے؟آپ کے سینئر افسران کہاں ہیں جس پر اس آفیسر نے کہا کہ ہمارے سینئر ریوینیو آفیسر نئے آئے ہیں اس لیے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، عدالت نے اس پر سوال کیا کہ نئے سینئر آفیسر کو عدالت کا راستہ معلوم نہیں اس طرح کے فضول جواب قابل قبول نہیں ہیں،کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے کیس کی پیروی ممتاز قانون دان عثمان فاروق نے کی۔ اس موقع پر 33 سال سے التوا کا شکار کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آئینی پٹیشن کے پٹیشنر محمود حامد، سینئر وائس چیئرمین اقبال احمد،محمد رضوان اور الاٹیز کی بڑی تعداد بھی ہائی کورٹ میں موجود تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینئر ممبر ریونیو بورڈ کاٹیج انڈسٹریز کی کے ایم سی لانڈھی عدالت نے ا فیسر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔