data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-01-14

 

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خور یف نے کہاہے کہ پاک افغان تعلقات کی کشید گی پر روس کوتشویش ہے ،دونوں ممالک سفارت

کاری کے ساتھ مسائل حل کریں،روس یورپ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے اور یورپی ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا،اگر یورپ نے روس کے خلاف جارحیت کی توجدید اسلحے کے ساتھ انتہائی فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں،یوکرین کے ساتھ جنگ میں اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو روس فوجی کارروائیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے گا،ہم یوکرین میں یورپ کے ساتھ لڑرہے ہیں اس لیے مذاکرت میں یوکرین شامل نہیں ہے،یوکرین میں شکست کھانے کے بعد یورپ روس کے یورپی مالیاتی اداروں میں پڑے ہوئے اثاثے ضبط کرنا چاہتاہے،روسی توانائی پر پابندی کے بعد یورپ کی اپنی انڈسٹری تباہ ہورہی ہے۔ان خیالات کااظہار پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خور یف نے روسی سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔سفیر البرٹ پی خور یف نے کہاکہ یوکر ین سے متعلقہ تنازعے کے تصفیاتی عمل میں سب سے اہم ترین مسائل میں سے ایک 3دسمبر کو ماسکو میں روسی صدر ولاد یمیر پوٹن اور امریکی مذاکرات کاروں سٹیون وٹکوف اور جیرڈکشنر کے درمیان بات چیت ہے۔ فریقین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر تبادلہ خیال کے لیے پانچ گھنٹے تک تفصیلی مذاکرات کیے، جو 15 اگست کو اینکریج سربراہی اجلاس میں روسی اور امریکی صدور کے درمیان طے شدہ معاہدوں پر مشتمل ہے۔یہ منصوبہ، جس کا خاکہ الاسکا میں ملاقات کے بعد تشکیل د یا گیا تھا، امریکیوں کے یورپی اوریوکرائنی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بعد اہم نظرثانی کی گئی تھی۔ ماسکو میں ملاقات تعمیری، کافی مفید اور ٹھوس تھی، حالانکہ اس میں ان شرائط پر توجہ د ی گئی جن سے روس متفق نہیں ہے۔مجموعی طور پر یوکرائنی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر کام مشکل ثابت ہو رہاہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ، تعمیری انداز میں اور میدان جنگ میں کی حقیقت کی بنیاد پر کام کرتے ہوئے، یورپیوں کی مزاحمت کا سامنا کر رہی ہے، جو بظاہر اب بھی روس کو ”تزویراتی شکست” د ینے اور اپنی شرائط پر تنازعے کو ختم کرنے کے امکان کے بارے میں غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو روس تعلقات کی بحالی کے لیے ثالث کاکردار اداکرنے کے لیے تیار ہیں۔مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاملہ ہے دونوں ممالک کوتیسرے فریق کے بغیر یہ مسئلہ حل کرناچاہئے،مسئلہ کشمیر کو شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کے مطابق حل کیاجائے،روس پاکستان اسٹیل مل کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

 

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ کے بعد روس کے کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت