حرا سومرو اور رنویر سنگھ کی اے آئی تصاویر پر ہنگامہ، سوشل میڈیا صارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ حرا سومرو اپنی باکمال کارکردگی اور بے تکلف مزاج کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔
حرا اکثر اپنے خیالات کھل کر بیان کرتی ہیں، چاہے اس پر تنقید ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم اس بار ان کے تازہ اقدام نے انہیں سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا سامنا کروا دیا ہے۔
تیرے بن اور دو کنارے جیسے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی حرا سومرو نے بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کے ساتھ ایک رومانوی اے آئی فوٹو شوٹ تخلیق کیا۔
یہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رنویر سنگھ اپنی نئی فلم دھرندھر میں کام کر رہے ہیں، جس میں پاکستان کو منفی اور غیر حقیقی انداز میں دکھایا گیا ہے۔
فلم کے اس تاثر کے باوجود حرا نے اپنے پسندیدہ اداکار کی حمایت جاری رکھی اور تصاویر کو مزاحیہ اور چلبلی کیپشنز کے ساتھ شیئر کیا۔
View this post on Instagram
A post shared by ???????????????????????????????????????? (@hirasoomro_official)
ایک تبصرے میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ رنویر سنگھ مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے، بس انہیں پیسہ بہت پسند ہے۔
سوشل میڈیا صارفین ان تصاویر پر برہم ہیں اور حرا کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستانی اداکاروں میں واقعی کوئی خودداری نہیں بچی‘۔
کسی نے کہا کہ ’اینٹی پاکستان فلم کے بعد بھی ایسی تصویریں؟ حیرت ہے! ‘ جبکہ ایک صارف نے سوال اٹھایا ’کیا ہم اتنے کم ظرف ہو گئے ہیں؟‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رنویر سنگھ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔