پاک مراکو تجارت کیلیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی،مراکشی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) مراکش کے سفیر محمد کرمون نے کہا ہے کہ پاکستان اور مراکش کے درمیان تجارتی تعلقات ابھی تک محدود ہیں حالانکہ دونوں ممالک کے مابین شاندار سیاسی تعلقات قائم ہیں تاہم اقتصادی و تجارتی میدان میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک عالمی سطح پر مسابقت کی زیادہ صلاحیت حاصل کرسکیں۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرصدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی،مراکش کے اعزازی قونصل جنرل مرزا اشتیاق بیگ، کے سی سی آئی ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران اور پاک،مراکش بزنس کونسل کے اراکین بھی موجود تھے۔مراکش کے سفیر نے کہا کہ کم تجارتی حجم کی ذمہ داری دونوں ممالک کی تاجر برادری پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ تجارت کو دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا سب سے اہم ستون بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مراکش اور پاکستان مختلف شعبوں میں تعاون کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں بالخصوص سولر انرجی، ونڈ انرجی، گرین ٹیکنالوجیز اور سیاحت قابل ذکر ہیں۔نومبر 2024 کے اختتام تک ایک کروڑ 80 لاکھ سیاح مراکش کا دورہ کرچکے ہیں اور سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی دینے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی تاجر برادری کو چاہیے کہ وہ مراکش کا دورہ کرے۔ہمیں پاکستان کی تاجر برادری کی ضرورت ہے کہ وہ مراکش میں اپنی موجودگی بڑھائے اور اقتصادی شراکت داری کومستحکم کرے۔مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ پاکستان اور مراکش نہ صرف برادر ممالک ہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی کی وجہ سے بھی ساتھ ساتھ ترقی کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مراکش کے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔