پاکستان کے داخلی معاملات میں شورش، نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور:
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ے کہا ہے کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں ایک شورش ہے، ایسے لگتا ہے جیسے نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو معیشت نہیں چلے گی۔ کسی ایک سیاسی حریف پر ایک بھی سیاسی مقدمہ ثابت ہوجائے تو استعفیٰ دیدوں گا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیا آپ نے پارلیمنٹ کو مضبوط فوج کو کمزور کر کے کرنا ہے۔ آپ خود فوج کی پیدوار ہیں آپ کس منہ سے فوج کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔ پاپولر ہونا کیا ہوتا ہے ۔میرے حلقے میں تو اپ بدترین شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ اس ملک پر رحم کرو اس ملک سے کس چیز کی دشمنی کررہے ہو۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک گروہ بندی کی گئی تھی جس کے تحت پانچ ججز کے سامنے ہی پینتیس کیس لگے جو صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف تھے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے ایک پولیٹکل پارٹی کو ختم کرنے کی باقاعدہ مہم چلی تھی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسد قیصر نے کہا این ڈی یو میں جانے والے غدار ہیں، جب میں نے این ڈی یو میں کورس کیا تو اسد قیصر وہاں لیکچر دے رہے تھےتو پھر تو وہ غدار اعظم ہوئے، پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں وفاقی وزرا کیخلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔
ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ میرے سامنے ایک بڑی شخصیت نے بانی پی ٹی ائی کو کال کی اور کہا کہ بس کریں حالات بہت خراب ہوگئے ہیں، اپ نے بدترین سیاسی انتقام جھوٹے مقدمات بنائے ہیں، کاروباری افراد کے کاروبار ختم کر دیے ہیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا میں نے ان کو چھوڑ دیا تو میری سیاست ختم ہوجائے گی۔ تو کیا اپ کے سیاست یہ ہے کہ اپ لوگوں پر جھوٹے مقدمات کریں لوگوں کے گھر گرا دیں؟۔
انہوں نے کہا کہ نو مئی کے بعد دس مئی بھی آگیا جس نے میرا سر فخر سے بلند کیا، دس مئی نے اقوام عالم میں مجھے باعزت بنایا۔ میں ذاتی طور پر جنگوں کے خلاف ہوں، مجھے بارود خون اور لاشوں سے خوف اتا ہے۔ دس مئی کو فوج نے اپنی برتری زمین و آسمان پر قائم کی، رافیل گرتے میں نے دیکھے ہیں، بھارت اب بھی جنگ کا کھیل رہا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آپ کے وزراء نے سندھ کے متعلق جو ہرزہ سرائی کی یہ پاکستانی فوج کو بھارتی ہدف بناتے ہیں، کیا فوج کی سنٹرل اتھارٹی کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، فوجی سربراہ کو ٹارگٹ کریں تو اس سے بڑھ کر کیا دشمنی ہوگی، نو مئی میں 27 چھائونیوں پر ایک ہی دن ایک ہی وقت میں حملہ کرکے آگ لگا دی گئی، نو مئی کو لاہور کور کمانڈر کا گھر اور پاکستانی پرچم نذر آتش کیا گیا وہ لوگ ابھی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ہے، نو مئی کو جو پی ٹی ائی نے کیا وہ اچانک نہیں تھا، یہ باقاعدہ ایک سازش تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی کئی گئی تھی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے نے کہا کہ پی ٹی ا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔