شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، انتونیو گوتریس
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بنیادی طور پر غلط قرار دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن حماس کے خاتمے کے نام پر شروع ہوا، مگر نتیجتاً پورا غزہ تباہ کر دیا گیا۔
ان کے مطابق غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور فوجی کارروائی کے دوران شہری ہلاکتوں اور تباہی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اقدامات واضح طور پر فوجی حکمتِ عملی کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر مانا جا سکتا ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔