ایک کہانی جس کا انجام توقع کے برعکس نکلا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پہلے آپ یہ کہانی پڑھ لیں پھر اس سے آگے بڑھتے ہیں، اگر آپ نے سوشل میڈیا پر پچھلے دو تین دنوں میں اس کہانی کو پڑھا ہو تو معذرت، مگر فکر نہ کریں، ہم آج کے کالم میں آپ کو یہ چلا ہوا پرانا سودا نہیں بیچ رہے، کچھ اور کہنا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر انجانے سورس سے نمودار ہونے والی کہانی کچھ یوں ہے:
’ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے وائرل ہوئی، گیمز آف تھرون کے ایک مقبول اور مشہور کردار آریا سٹارک کو ادا کرنے والی اداکارہ میسی ولیمز جرمن میٹرو میں بیٹھی ہے، اس کے ساتھ بیٹھا نوجوان بالکل بے نیاز ہے، اسے کوئی پروا نہیں کہ سائیڈ والی چیئر پر اتنی مشہور اداکارہ اور سیلیبریٹی بیٹھی ہے۔ مشہور جرمن میگزین ڈیر شپیگل نے اس تصویر کی کھوج شروع کی اور اس میں بیٹھے بھارتی نوجوان کو ڈھونڈنے نکل پڑے۔ آخرکار سراغ میونخ میں ملا، اور پتا چلا کہ وہ نوجوان وہاں غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا۔ صحافی نے اس انڈین نوجوان سے پوچھا، ’تمہیں پتا بھی تھا کہ تمہارے ساتھ بیٹھی سنہری بالوں والی لڑکی معروف اداکارہ میسی ولیمز تھی؟ لوگ اس سے ایک سیلفی لینے کے لیے بھی ترستے ہیں، اور تم نے کوئی خاص ردعمل ہی نہیں دیا، کیوں؟‘
وہ نوجوان بالکل پرسکون تھا، اس نے بس اتنا کہا، ’جب تمہارے پاس رہائش کا کاغذ نہ ہو، جیب میں ایک یورو بھی نہ ہو، اور تم روز ٹرین میں چھپ کر سفر کرتے ہو، تو پھر تمہیں اس بات کی فکر ہی نہیں رہتی کہ تمہارے ساتھ کون بیٹھا ہے۔‘ نوجوان کی صاف گوئی نے صحافی اور میگزین کو اتنا متاثر کیا کہ ڈیر شپیگل نے اسے فوراً ایک ڈاکیے کی نوکری دے دی۔ تنخواہ 800 یورو ماہانہ۔ اسی ملازمت کے کنٹریکٹ کی بنیاد پر اسے باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ بھی مل گیا۔ وہ سارا مسئلہ جو اس کے سر پر تلوار بنا ہوا تھا، لمحوں میں ختم ہوگیا۔ یہ پوری کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رزق کہاں سے اور کس طرح آ جائے، انسان سوچ بھی نہیں سکتا، بس دل ہمت نہ ہارے۔ مشکلیں وقتی ہوتی ہیں، اور اللہ ہمیشہ وہی راستہ کھولتا ہے جس کی ہم نے توقع بھی نہیں کی ہوتی۔ امید رکھو، بھروسہ رکھو۔ تمہارا وقت بھی آتا ہے۔‘
یہ دلچسپ موٹیویشنل اسٹوری گزشتہ روز پڑھی، پھر رات بھر میں اسے کئی پوسٹوں کی زینت بنے دیکھا۔ ہمارے ہاں کاپی پیسٹ کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ لوگ ایک سکینڈ میں پوسٹ کاپی کرکے اپنے پاس چسپاں کردیتے ہیں۔ بعض اوقات نیک نیتی اور کسی اچھی تحریر کو مثبت تشہیر کے لیے پھیلانے کے خیال سے بھی یہ کیا جاتا ہے کہ پوسٹ شیئر کرنے سے زیادہ ریچ نہیں ملتی، البتہ کاپی پیسٹ کرنے سے وہ اوریجنل پوسٹ کی طرح بڑی ریچ لے سکتی ہے۔
مجھے اس اسٹوری میں ایک دو باتیں کھٹک رہی تھیں، ایک تو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ایسے ایک رینڈم تصویر سے کسی اخبار یا صحافی کے لیے کسی گمنام مسافر کو کھوجنا آسان نہیں، پھر اس تصویر میں ایسا کوئی اچھوتا پن بھی نہیں تھا کہ کوئی اتنا کشٹ اٹھاتا۔
خیر میں نے اس اسٹوری کو جانچنے کا فیصلہ کیا، خوش قسمتی یا بدقسمتی سے (اس بدقسمتی کی وضاحت آگے کروں گا) ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں جی رہے ہیں جہاں کچھ مفت میں اور پھر تھوڑے سے پیسے دے کر پیڈ اے آئی ایپس بہت سا کام کر دیتی ہیں۔ میں نے دو تین مختلف پہلوانوں کو یہ ٹاسک سونپا۔ چیٹ جی پی ٹی، گروک، جیمنائی۔ نتیجہ دلچسپ نکلا۔
پتا چلا کہ یہ اسٹوری بالکل جعلی ہے۔ ایسا کوئی واقعہ جرمنی میں نہیں ہوا۔ ڈیر شپیگل نے ایسی کوئی اسٹوری سرے سے شائع ہی نہیں کی۔ عالمی میڈیا کو کھنگالنے سے میسی ولیمز کے حوالے سے ایسی کوئی اسٹوری نہیں ملی۔ میسی ولیمز نے اپنے کسی انٹرویو میں بھی اس حوالے سے نہیں بتایا۔
چیٹ جی پی ٹی نے رپورٹ دی: ’میں نے جرمن ذرائع (میگزینز، نیوز سائٹس) اور انگریزی ذرائع دونوں کو دیکھا، مگر کسی بھی معتبر نیوز پورٹل، آرکائیو یا فیکٹ چیک سائٹ پر اس پورے واقعے کی کوئی خبر یا رپورٹ نہیں ملی، نہ ہی ڈیر شپیگل کا کوئی ریکارڈ ملا جس میں یہ واقعہ درج ہو، سوشل میڈیا پوسٹ یا ویب آرکائیو میں بھی ایسا کچھ نہ مل سکا۔ ’چیٹ جی پی ٹی نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ پوسٹ تصدیق شدہ نہیں ہے اور اس حوالے سے جو معلومات دستیاب ہیں، وہ غیر تصدیق شدہ ہیں۔
گروک البتہ اپنے مالک ایلون مسک کی طرح کچھ زیادہ ہی منہ پھٹ اور تھوڑا بدلحاظ ہے۔ اس نے صاف اسے جعلی اور جھوٹی اسٹوری قرار دے دیا، البتہ یہ مہربانی کی کہ اسے ایک موٹیویشنل مقصد کے لیے گھڑی جانے والی کہانی کہا۔
اب آیا تصویر کا معاملہ، گوگل پر ریورس امیج کی سہولت دستیاب ہے جس سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ یہ تصویر اصلی ہے یا جھوٹی، یا کب کی ہے۔ تھوڑی سی تحقیق ہم نے بھی فرمائی مگر زیادہ ہم نے چیٹ جی پی ٹی اور گروک سے کرائی۔
معلوم ہوا کہ یہ تصویر جرمنی میٹرو کی ہے ہی نہیں، یہ لندن میٹرو کی تصویر ہے اور 2019 کی ہے یعنی 6 سال قبل کی۔ گوگل ریورس امیج نے تو 6 سال پرانا ایک ٹوئٹ بھی نکال کر دکھا دیا جس میں کسی نے ٹوئٹ کیا تھا کہ جس طرح یہ نوجوان میسی ولیمز کو اگنور کررہا ہے ویسے میں ہر ایک کو اگنور کرنا چاہتا ہوں۔
چیٹ جی پی ٹی نے مزید تفصیل سے بتایا کہ سیٹ کور کا ڈیزائن لندن میٹرو جیسا ہے، ایسے رنگین پیٹرن جرمنی کی میٹرو میں نہیں۔ تصویر میں نظر آنے والے دروازے کا اسٹائل بھی لندن میٹرو جیسا ہے، ویسا پیلا بار، سفید سائیڈ پینل، دروازے کے اوپر کَروڈ فریم۔ یہ لندن انڈرگراؤنڈ کی ایس کلاس کا مخصوص ڈیزائن ہے۔ فلور، گرپ ریل، کیرج لائٹس کی کنفیگریشن وہی ہے جو لندن ٹیوب کی ایس سٹاک ٹرینوں میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ 100 فی صد لندن میٹرو کی تصویر ہے، جرمن میٹرو کی نہیں۔ اسی سے یہ کہانی جھوٹی اور فرضی ثابت ہوگئی۔
اب یہاں تک پہنچ کر یہ قصہ تو تمام ہوا، ثابت ہوگیا کہ یہ ایک فرضی اور جعلی کہانی کسی نے موٹیویشنل مقصد کے لیے گھڑ کر پھیلا دی۔ ہمارے معصوم جنوبی ایشیائی کنزیومرز نے اسے وائرل کردیا۔ چلیں ٹھیک ہوگیا، بات کلیئر ہوگئی۔
میرا دکھ مگر یہ نہیں، بطور لکھاری میرا افسوس اور غم یہ ہے کہ یہ کم بخت مارے اتنے سارے تفتیشی ایجنٹ پیدا ہوگئے ہیں کہ بندہ اپنے کالم میں اب کچھ فکشن بھی نہیں ڈال سکتا۔ ہم سے پہلے والے کیا کچھ نہیں کرتے رہے۔ ہر قسم، ہر نسل اور ہر رنگ کی کہانیاں انہوں نے گھڑ کر اپنے کالموں کی زینت بنائیں اور خوب شہرت اور نام کمایا۔ ایک معروف کالم نگار تو کالم میں دھڑلے سے عجیب وغریب اعداد وشمار بھی دے دیتے، جیسے لکھ ڈالتے کہ پاکستان میں 13 لاکھ 87 ہزار 512 موٹر سائیکلیں ہیں۔ ہم پڑھ کر ہکا بکا رہ جاتے کہ اتنے ایکوریٹ قسم کے اعدادوشمار انہوں نے کہاں سے لے لیے۔ میرے کالم نگاری کے آغاز میں ہمیں نیٹ کی سہولت میسر ہوچکی تھی، بہت بار نیٹ پر سرچ کرتے رہے کہ شاید ایسے اعدادوشمار والی جادوگر ویب سائٹس ہمیں بھی مل جائے، کہیں سے کچھ نہ ملا۔ سرکاری اداروں کی ویب سائٹ چیک کرتے تو وہاں کچھ بھی نہ ہوتا۔ بہت بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ سب اٹکل پچو تھا۔
تو بھائی لوگو، لکھنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔ اب کچھ اچھا، متاثرکن، مؤثر لکھنے کے لیے پتا پانی کرنا پڑے گا، جان مارنا پڑے گی، پھر لفظوں میں زندگی کے اثار نظر آئیں گے۔ آپ اگر ادھر اُدھر سے اٹھا کر کچھ بھی الٹ سلٹ لکھ دیں، اگلے چند منٹوں میں چیٹ جی پی ٹی، گروک، جیمنائی جیسے تفتیشی ایجنٹوں سے اصل حقیقت اگلوا لیں گے۔ اب سچ مچ موٹی کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں۔ کتابوں کی سمری مل جاتی ہے، مگر وہ اتنی بور، خشک اور بے جان ہوتی ہے کہ آدمی اس ’مردے‘ کو کالم میں ڈالنے کی جرات ہی نہیں کرتا۔ خاکسارکے ساتھ کئی بار یہ ظلم بھی ہوا کہ کئی سو صفحات کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی کالم کا مواد نہ مل سکا۔ یعنی ایسا کچھ جو کالم میں پیش کیا جا سکے۔ اب ہر کوئی اقبال دیوان تھوڑی ہے کہ ایسی بائیوگرافی لکھ ڈالے جس سے کئی کالم جنم لے سکیں۔
اردو کے منفرد لکھاری محمد خالد اختر نے اپنے ایک دلچسپ مضمون میں ایک کردار کی زبانی بتایا کہ اس نے سمرسٹ ماہم اور تین چار دیگر انگریزی کے ادیبوں کی کہانیوں کے ٹکڑے لے کر ایک کہانی بنا ڈالی، اسے ایک اردو ادبی جریدے میں بھیج دیا۔ جریدے میں وہ کہانی ایک شاندار تعریفی نوٹ کے ساتھ چھپ گئی۔ وہ ادیب چوڑا ہو کر ہر ادبی اجلاس میں پہنچ جاتا اور تعریف وصول کرتا۔ یہ اور بات کہ اگلے شمارے میں ایک پرانے کہنہ مشق، محقق مزاج نقاد کا مضمون چھپا جس نے ان تمام انگریزی کے ادیبوں کے اصل ٹکڑے نقل کرکے بتایا کہ کس طرح ادبی سرقہ کیا گیا۔ مصنف پر تو گویا بجلی گر گئی۔ وہ کئی دنوں تک گھر سے ہی نہ نکلا اور قسم کھائی کہ جب تک اس محقق نقاد جیسے منحوس زندہ ہیں، تب تک کوئی ادبی مضمون یا کہانی نہیں لکھنی۔
آج کے دور میں قلم سے کمانے والے ہم معصوم، نمانے لکھاریوں کا المیہ زیادہ بڑا ہے کہ اب واسطہ مصنوعی ذہانت سے ہے۔ ان ایپس سے ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بہتر ہوں گی، ان کی پرفارمنس، ایکوریسی بہتر سے بہترین ہوتی جائے گی۔ اس لیے ان کے فنا ہونے کی امید یا توقع لاحاصل ہے، اپنے آپ ہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ زیادہ تخلیقی، زیادہ محنتی، زیادہ مرتب، انسانی دماغ کا مقابلہ مصنوعی ذہانت سے ہے۔ دیکھیں مقابلہ کس راؤنڈ تک جاتا ہے؟ یہ بھی کہ فاتح کون ہوگا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
wenews جرمنی سوشل میڈیا کہانی لکھاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کہانی لکھاری وی نیوز چیٹ جی پی ٹی میسی ولیمز لندن میٹرو سوشل میڈیا کالم میں میٹرو کی بھی نہیں ہی نہیں میں بھی میں ایک کے ساتھ بھی نہ سے ایک کے لیے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔