ایک کہانی جس کا انجام توقع کے برعکس نکلا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پہلے آپ یہ کہانی پڑھ لیں پھر اس سے آگے بڑھتے ہیں، اگر آپ نے سوشل میڈیا پر پچھلے دو تین دنوں میں اس کہانی کو پڑھا ہو تو معذرت، مگر فکر نہ کریں، ہم آج کے کالم میں آپ کو یہ چلا ہوا پرانا سودا نہیں بیچ رہے، کچھ اور کہنا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر انجانے سورس سے نمودار ہونے والی کہانی کچھ یوں ہے:
’ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے وائرل ہوئی، گیمز آف تھرون کے ایک مقبول اور مشہور کردار آریا سٹارک کو ادا کرنے والی اداکارہ میسی ولیمز جرمن میٹرو میں بیٹھی ہے، اس کے ساتھ بیٹھا نوجوان بالکل بے نیاز ہے، اسے کوئی پروا نہیں کہ سائیڈ والی چیئر پر اتنی مشہور اداکارہ اور سیلیبریٹی بیٹھی ہے۔ مشہور جرمن میگزین ڈیر شپیگل نے اس تصویر کی کھوج شروع کی اور اس میں بیٹھے بھارتی نوجوان کو ڈھونڈنے نکل پڑے۔ آخرکار سراغ میونخ میں ملا، اور پتا چلا کہ وہ نوجوان وہاں غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا۔ صحافی نے اس انڈین نوجوان سے پوچھا، ’تمہیں پتا بھی تھا کہ تمہارے ساتھ بیٹھی سنہری بالوں والی لڑکی معروف اداکارہ میسی ولیمز تھی؟ لوگ اس سے ایک سیلفی لینے کے لیے بھی ترستے ہیں، اور تم نے کوئی خاص ردعمل ہی نہیں دیا، کیوں؟‘
وہ نوجوان بالکل پرسکون تھا، اس نے بس اتنا کہا، ’جب تمہارے پاس رہائش کا کاغذ نہ ہو، جیب میں ایک یورو بھی نہ ہو، اور تم روز ٹرین میں چھپ کر سفر کرتے ہو، تو پھر تمہیں اس بات کی فکر ہی نہیں رہتی کہ تمہارے ساتھ کون بیٹھا ہے۔‘ نوجوان کی صاف گوئی نے صحافی اور میگزین کو اتنا متاثر کیا کہ ڈیر شپیگل نے اسے فوراً ایک ڈاکیے کی نوکری دے دی۔ تنخواہ 800 یورو ماہانہ۔ اسی ملازمت کے کنٹریکٹ کی بنیاد پر اسے باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ بھی مل گیا۔ وہ سارا مسئلہ جو اس کے سر پر تلوار بنا ہوا تھا، لمحوں میں ختم ہوگیا۔ یہ پوری کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رزق کہاں سے اور کس طرح آ جائے، انسان سوچ بھی نہیں سکتا، بس دل ہمت نہ ہارے۔ مشکلیں وقتی ہوتی ہیں، اور اللہ ہمیشہ وہی راستہ کھولتا ہے جس کی ہم نے توقع بھی نہیں کی ہوتی۔ امید رکھو، بھروسہ رکھو۔ تمہارا وقت بھی آتا ہے۔‘
یہ دلچسپ موٹیویشنل اسٹوری گزشتہ روز پڑھی، پھر رات بھر میں اسے کئی پوسٹوں کی زینت بنے دیکھا۔ ہمارے ہاں کاپی پیسٹ کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ لوگ ایک سکینڈ میں پوسٹ کاپی کرکے اپنے پاس چسپاں کردیتے ہیں۔ بعض اوقات نیک نیتی اور کسی اچھی تحریر کو مثبت تشہیر کے لیے پھیلانے کے خیال سے بھی یہ کیا جاتا ہے کہ پوسٹ شیئر کرنے سے زیادہ ریچ نہیں ملتی، البتہ کاپی پیسٹ کرنے سے وہ اوریجنل پوسٹ کی طرح بڑی ریچ لے سکتی ہے۔
مجھے اس اسٹوری میں ایک دو باتیں کھٹک رہی تھیں، ایک تو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ایسے ایک رینڈم تصویر سے کسی اخبار یا صحافی کے لیے کسی گمنام مسافر کو کھوجنا آسان نہیں، پھر اس تصویر میں ایسا کوئی اچھوتا پن بھی نہیں تھا کہ کوئی اتنا کشٹ اٹھاتا۔
خیر میں نے اس اسٹوری کو جانچنے کا فیصلہ کیا، خوش قسمتی یا بدقسمتی سے (اس بدقسمتی کی وضاحت آگے کروں گا) ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں جی رہے ہیں جہاں کچھ مفت میں اور پھر تھوڑے سے پیسے دے کر پیڈ اے آئی ایپس بہت سا کام کر دیتی ہیں۔ میں نے دو تین مختلف پہلوانوں کو یہ ٹاسک سونپا۔ چیٹ جی پی ٹی، گروک، جیمنائی۔ نتیجہ دلچسپ نکلا۔
پتا چلا کہ یہ اسٹوری بالکل جعلی ہے۔ ایسا کوئی واقعہ جرمنی میں نہیں ہوا۔ ڈیر شپیگل نے ایسی کوئی اسٹوری سرے سے شائع ہی نہیں کی۔ عالمی میڈیا کو کھنگالنے سے میسی ولیمز کے حوالے سے ایسی کوئی اسٹوری نہیں ملی۔ میسی ولیمز نے اپنے کسی انٹرویو میں بھی اس حوالے سے نہیں بتایا۔
چیٹ جی پی ٹی نے رپورٹ دی: ’میں نے جرمن ذرائع (میگزینز، نیوز سائٹس) اور انگریزی ذرائع دونوں کو دیکھا، مگر کسی بھی معتبر نیوز پورٹل، آرکائیو یا فیکٹ چیک سائٹ پر اس پورے واقعے کی کوئی خبر یا رپورٹ نہیں ملی، نہ ہی ڈیر شپیگل کا کوئی ریکارڈ ملا جس میں یہ واقعہ درج ہو، سوشل میڈیا پوسٹ یا ویب آرکائیو میں بھی ایسا کچھ نہ مل سکا۔ ’چیٹ جی پی ٹی نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ پوسٹ تصدیق شدہ نہیں ہے اور اس حوالے سے جو معلومات دستیاب ہیں، وہ غیر تصدیق شدہ ہیں۔
گروک البتہ اپنے مالک ایلون مسک کی طرح کچھ زیادہ ہی منہ پھٹ اور تھوڑا بدلحاظ ہے۔ اس نے صاف اسے جعلی اور جھوٹی اسٹوری قرار دے دیا، البتہ یہ مہربانی کی کہ اسے ایک موٹیویشنل مقصد کے لیے گھڑی جانے والی کہانی کہا۔
اب آیا تصویر کا معاملہ، گوگل پر ریورس امیج کی سہولت دستیاب ہے جس سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ یہ تصویر اصلی ہے یا جھوٹی، یا کب کی ہے۔ تھوڑی سی تحقیق ہم نے بھی فرمائی مگر زیادہ ہم نے چیٹ جی پی ٹی اور گروک سے کرائی۔
معلوم ہوا کہ یہ تصویر جرمنی میٹرو کی ہے ہی نہیں، یہ لندن میٹرو کی تصویر ہے اور 2019 کی ہے یعنی 6 سال قبل کی۔ گوگل ریورس امیج نے تو 6 سال پرانا ایک ٹوئٹ بھی نکال کر دکھا دیا جس میں کسی نے ٹوئٹ کیا تھا کہ جس طرح یہ نوجوان میسی ولیمز کو اگنور کررہا ہے ویسے میں ہر ایک کو اگنور کرنا چاہتا ہوں۔
چیٹ جی پی ٹی نے مزید تفصیل سے بتایا کہ سیٹ کور کا ڈیزائن لندن میٹرو جیسا ہے، ایسے رنگین پیٹرن جرمنی کی میٹرو میں نہیں۔ تصویر میں نظر آنے والے دروازے کا اسٹائل بھی لندن میٹرو جیسا ہے، ویسا پیلا بار، سفید سائیڈ پینل، دروازے کے اوپر کَروڈ فریم۔ یہ لندن انڈرگراؤنڈ کی ایس کلاس کا مخصوص ڈیزائن ہے۔ فلور، گرپ ریل، کیرج لائٹس کی کنفیگریشن وہی ہے جو لندن ٹیوب کی ایس سٹاک ٹرینوں میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ 100 فی صد لندن میٹرو کی تصویر ہے، جرمن میٹرو کی نہیں۔ اسی سے یہ کہانی جھوٹی اور فرضی ثابت ہوگئی۔
اب یہاں تک پہنچ کر یہ قصہ تو تمام ہوا، ثابت ہوگیا کہ یہ ایک فرضی اور جعلی کہانی کسی نے موٹیویشنل مقصد کے لیے گھڑ کر پھیلا دی۔ ہمارے معصوم جنوبی ایشیائی کنزیومرز نے اسے وائرل کردیا۔ چلیں ٹھیک ہوگیا، بات کلیئر ہوگئی۔
میرا دکھ مگر یہ نہیں، بطور لکھاری میرا افسوس اور غم یہ ہے کہ یہ کم بخت مارے اتنے سارے تفتیشی ایجنٹ پیدا ہوگئے ہیں کہ بندہ اپنے کالم میں اب کچھ فکشن بھی نہیں ڈال سکتا۔ ہم سے پہلے والے کیا کچھ نہیں کرتے رہے۔ ہر قسم، ہر نسل اور ہر رنگ کی کہانیاں انہوں نے گھڑ کر اپنے کالموں کی زینت بنائیں اور خوب شہرت اور نام کمایا۔ ایک معروف کالم نگار تو کالم میں دھڑلے سے عجیب وغریب اعداد وشمار بھی دے دیتے، جیسے لکھ ڈالتے کہ پاکستان میں 13 لاکھ 87 ہزار 512 موٹر سائیکلیں ہیں۔ ہم پڑھ کر ہکا بکا رہ جاتے کہ اتنے ایکوریٹ قسم کے اعدادوشمار انہوں نے کہاں سے لے لیے۔ میرے کالم نگاری کے آغاز میں ہمیں نیٹ کی سہولت میسر ہوچکی تھی، بہت بار نیٹ پر سرچ کرتے رہے کہ شاید ایسے اعدادوشمار والی جادوگر ویب سائٹس ہمیں بھی مل جائے، کہیں سے کچھ نہ ملا۔ سرکاری اداروں کی ویب سائٹ چیک کرتے تو وہاں کچھ بھی نہ ہوتا۔ بہت بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ سب اٹکل پچو تھا۔
تو بھائی لوگو، لکھنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔ اب کچھ اچھا، متاثرکن، مؤثر لکھنے کے لیے پتا پانی کرنا پڑے گا، جان مارنا پڑے گی، پھر لفظوں میں زندگی کے اثار نظر آئیں گے۔ آپ اگر ادھر اُدھر سے اٹھا کر کچھ بھی الٹ سلٹ لکھ دیں، اگلے چند منٹوں میں چیٹ جی پی ٹی، گروک، جیمنائی جیسے تفتیشی ایجنٹوں سے اصل حقیقت اگلوا لیں گے۔ اب سچ مچ موٹی کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں۔ کتابوں کی سمری مل جاتی ہے، مگر وہ اتنی بور، خشک اور بے جان ہوتی ہے کہ آدمی اس ’مردے‘ کو کالم میں ڈالنے کی جرات ہی نہیں کرتا۔ خاکسارکے ساتھ کئی بار یہ ظلم بھی ہوا کہ کئی سو صفحات کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی کالم کا مواد نہ مل سکا۔ یعنی ایسا کچھ جو کالم میں پیش کیا جا سکے۔ اب ہر کوئی اقبال دیوان تھوڑی ہے کہ ایسی بائیوگرافی لکھ ڈالے جس سے کئی کالم جنم لے سکیں۔
اردو کے منفرد لکھاری محمد خالد اختر نے اپنے ایک دلچسپ مضمون میں ایک کردار کی زبانی بتایا کہ اس نے سمرسٹ ماہم اور تین چار دیگر انگریزی کے ادیبوں کی کہانیوں کے ٹکڑے لے کر ایک کہانی بنا ڈالی، اسے ایک اردو ادبی جریدے میں بھیج دیا۔ جریدے میں وہ کہانی ایک شاندار تعریفی نوٹ کے ساتھ چھپ گئی۔ وہ ادیب چوڑا ہو کر ہر ادبی اجلاس میں پہنچ جاتا اور تعریف وصول کرتا۔ یہ اور بات کہ اگلے شمارے میں ایک پرانے کہنہ مشق، محقق مزاج نقاد کا مضمون چھپا جس نے ان تمام انگریزی کے ادیبوں کے اصل ٹکڑے نقل کرکے بتایا کہ کس طرح ادبی سرقہ کیا گیا۔ مصنف پر تو گویا بجلی گر گئی۔ وہ کئی دنوں تک گھر سے ہی نہ نکلا اور قسم کھائی کہ جب تک اس محقق نقاد جیسے منحوس زندہ ہیں، تب تک کوئی ادبی مضمون یا کہانی نہیں لکھنی۔
آج کے دور میں قلم سے کمانے والے ہم معصوم، نمانے لکھاریوں کا المیہ زیادہ بڑا ہے کہ اب واسطہ مصنوعی ذہانت سے ہے۔ ان ایپس سے ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بہتر ہوں گی، ان کی پرفارمنس، ایکوریسی بہتر سے بہترین ہوتی جائے گی۔ اس لیے ان کے فنا ہونے کی امید یا توقع لاحاصل ہے، اپنے آپ ہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ زیادہ تخلیقی، زیادہ محنتی، زیادہ مرتب، انسانی دماغ کا مقابلہ مصنوعی ذہانت سے ہے۔ دیکھیں مقابلہ کس راؤنڈ تک جاتا ہے؟ یہ بھی کہ فاتح کون ہوگا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
wenews جرمنی سوشل میڈیا کہانی لکھاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کہانی لکھاری وی نیوز چیٹ جی پی ٹی میسی ولیمز لندن میٹرو سوشل میڈیا کالم میں میٹرو کی بھی نہیں ہی نہیں میں بھی میں ایک کے ساتھ بھی نہ سے ایک کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی