وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ 3 دسمبر کو کرے گا۔

سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس لیا تھا۔ 27 ویں ترمیم کے بعد از خود نوٹس مقدمات آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر 

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر سے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔ جسٹس ارشد حسین اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں۔ آئینی عدالت کا بینچ نمبر ایک یکم دسمبر سے پانچ دسمبر تک سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

آئندہ ہفتے تین بینچز مقدمات کی سماعت کے لیے دستیاب ہوں گے۔ 

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمات سنے گا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا بینچ تین میں مقدمات سنیں گے۔

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری 

سپریم کورٹ 18 دسمبر 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک تعطیلات ہوں گی۔ سپریم کورٹ یکم جنوری 2026 کو دوبارہ کھلیں گی۔ 

تعطیلات کے دوران عدالت کے دفاتر کھلے رہیں گے جبکہ تعطیلات کے دوران ارجنٹ و دیگر فکس مقدمات کی سماعتیں ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئینی عدالت سپریم کورٹ ارشد شریف کی سماعت اور جسٹس کرے گا

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی