کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے اور ماڈرن صفائی نظام کے منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت پانچویں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اہم فیصلے کیے گئے اور ان کی منظوری دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ، میئر حیدرآباد کاشف شورو، میئر میرپورخاص عبدالرؤف، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ وسیم شمشاد علی، ایم ڈی سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی، ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ اینڈ ایکس پینڈیچر اور دیگر افسران موجود تھے جبکہ کچھ میئرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں چوتھی اسٹیئرنگ کمیٹی کے منٹس کی منظوری دی گئی اور ریوائزڈ بجٹ کی پیش رفت سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا، وزیر بلدیات نے ماڈرن جی ٹی ایس کے لیے تکنیکی اور ماہر عملے کے عہدوں کی تشکیل کے لیے سب کمیٹی بنانے کی ہدایت کی تاکہ پروپوزل اگلی میٹنگ میں زیر بحث آئے۔
اجلاس میں صفائی ستھرائی کے کام کے لیے پائیدار نظام کی فراہمی پر بھی غور کیا گیا، جس میں رہائشی اور کمرشل علاقوں میں فیس کے نظام، کچرے کی ری سائیکلنگ، ماڈرن جی ٹی ایس اور انجینئرڈ لینڈ فل سائٹ کے منصوبے شامل ہیں تاکہ ماحول کو آلودگی سے بچایا جائے اور کاربن کریڈٹ حاصل کیا جا سکے۔
وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ میئر کراچی کی تجاویز کے بعد منصوبہ مزید جامع بنایا جائے اور اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے۔
اس کے علاوہ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دفاتر کو دوسری جگہ منتقل کرنے اور کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر بلدیات نے واضح کیا کہ تمام نجی کمپنیوں اور اداروں کو اپنے ملازمین کو سندھ حکومت کے تحت مقرر کردہ کم سے کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر بلدیات اجلاس میں کی منظوری
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔