Jang News:
2026-07-24@04:48:20 GMT

جلاؤ گھیراؤ کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

جلاؤ گھیراؤ کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور


یاسمین راشد: فائل فوٹو 

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کو تھانہ مغل پورہ کی حدود میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

لاہور: تھانہ جلاؤ گھیراؤ کیس میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد سمیت دیگر پر فرد جرم عائد

عدالت نے آئندہ سماعت پر سرکاری گواہوں کو بیانات کیلئے طلب کرلیا۔

یاسمین راشد کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ اسی مقدمے میں اعجاز چوہدری سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔ 

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور وکلا کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت منظور کر لی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کو 9 مئی کے تین مقدمات میں دس، دس سال قید کی سزا ہو چکی ہے جبکہ تین مقدمات میں درخواست ضمانت پر کارروائی 27 نومبر کو ہوگی، یاسمین راشد جناح ہاؤس حملہ کیس میں ڈسچارج ہوچکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: درخواست ضمانت یاسمین راشد

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن