Islam Times:
2026-07-24@01:41:20 GMT

موجودہ ورلڈ آرڈر اور کمزور بین الاقوامی قانونی نظام

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

موجودہ ورلڈ آرڈر اور کمزور بین الاقوامی قانونی نظام

اسلام ٹائمز: عالمی قانونی نظام کا زوال ظاہر کرتا ہے کہ مغربی لبرل ثقافت اور نظم و نسق انسانی ضروریات اور عالمی برادری کے انسانی حقوق پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ کام ایسے ممالک کو سنبھالنا چاہیے جن کی تاریخ امن پسندی، انسان دوستی، انصاف کے لیے آواز اٹھانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ایک نئے عالمی قانونی نظام کے تشکیل کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ممالک میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو ایک طرف اپنی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ اور ثقافت کی روشنی میں مظلوموں کا حامی اور ظالموں کا دشمن رہا ہے جبکہ دوسری طرف دین مبین اسلام کی اعلی تعلیمات کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت عدالت اور انصاف کی علمبردار ہے جو عیسائی محقق جورج جورداق کے بقول "انسانی عدالت کی آواز" اور "منصفانہ حکمرانی کا رول ماڈل" ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر احمد کاظمی
 
تہران میں حال ہی میں "بین الاقوامی قانونی نظام یلغار کا شکار: جارحیت اور دفاع" کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس میں چار بنیادی موضوعات، عالمی قانونی نظام محاصرے کا شکار: قانون پر مبنی نظام سے ضوابط پر مبنی نظام تک، سفارت کاری سے غداری: امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، جوہری عدم پھیلاو خطرے کا شکار: غالب رویے اور نظریات اور خطے کے سیکورٹی حالات کا جائزہ: بنیادی عناصر اور فیصلہ کن اسباب، زیر بحث لائے گئے ہیں۔ اس کانفرنس میں ایک بار پھر عالمی قانون کے روایتی نظام کے زوال اور لاگو ہونے کی گارنٹی کے ساتھ نئے قانونی نظام کی برپایی کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عالمی قانونی نظام کے پانچ بنیادی عناصر ہیں: بین الاقوامی انسانی حقوق، انسان پسندانہ قوانین، فوجداری قوانین، ماحولیات سے متعلق قوانین اور تجارتی قوانین۔
 
ان عناصر کی روشنی میں دیکھا جائے تو گذشتہ سات عشروں، خاص طور پر گذشتہ چند سالوں کے دوران رونما ہونے والے عالمی حالات نے عالمی قانونی نظام کو انتہائی شدت سے کمزور کر کے زوال کی جانب گامزن کر دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق، جو انسانی حقوق کے عالمی منشور (1948ء کی تین دستاویزات اور 1966ء کے دو معاہدے) کے ذریعے تمام بنی نوع انسان کے لیے عالمی امن، مساوات، امتیازی سلوک کی نفی اور بین الاقوامی انصاف کے درپے تھا اس وقت خاص طور پر انسانی حقوق اور دہشت گردی سے متعلق دوغلے معیاروں، بعض عالمی طاقتوں کی جانب سے خارجہ سیاست میں خودمختار ممالک کا رویہ تبدیل کرنے کے لیے ظالمانہ پابندیوں کو سیاسی جبر کا ذریعہ بنائے، شمال اور جنوب میں عالمی دراڑ اور بعض مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ میں سسٹمٹک نسلی تعصب کے تسلسل کے باعث کمزور ترین پوزیشن میں پہنچ چکا ہے۔
 
غزہ، میانمار، سوڈان، قفقاز وغیرہ میں نسل کشی، موجود رہنے کے حق اور ثقافتی، مذہبی اور لسانی حقوق کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1992ء کے اعلامیے سمیت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق اعلی دستاویزات کے لاگو ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں پائی جاتی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق، عالمی قانونی نظام کا ایک اہم رکن ہے لیکن بین الاقوامی قانون کی پابندی کا عہد کرنے والوں کی جانب سے سب سے زیادہ خلاف ورزی اسی شعبے میں دیکھی جا رہی ہے۔ یہی گذشتہ پانچ برس میں ایسے پانچ بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں جو عالمی قانونی نظام کی دھجیاں اڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ان میں 7 اکتوبر 2023ء سے غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی، ایران پر تھونپی گئی 12 روزہ جنگ نیز ایران کی جوہری تنصیبات کی حفاظت میں آئی اے ای اے کی ناکامی، یوکرین جنگ، سوڈان میں انجام پانے والا افسوسناک قتل عام اور وینزویلا کے خلاف امریکہ کا جارحانہ رویہ شامل ہیں۔
 
حقیقت تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چند عالمی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور اس کا رویہ اقوام متحدہ کے منشور اور مثالی اہداف، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسان پسندانہ قوانین کے برعکس رہا ہے۔ اسی وجہ سے اب تک سلامتی کونسل نہ تو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی رکوا سکی ہے اور نہ ہی غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، اسپتال تباہ کرنے اور خواتین اور بچوں کا قتل عام کرنے سے روک سکی ہے۔ اگرچہ 2002ء میں عالمی فوجداری عدالت کے قیام کے بعد یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب عالمی سطح کے مجرم سزا سے بچ نہیں پائیں گے لیکن عالمی طاقتوں نے قانونی تحفظ کا غلط استعمال کرتے ہوئے جنگی مجرموں کو سزا پانے سے محفوظ رکھا۔
 
دوسری طرف عالمی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم ثابت ہو جانے کے بعد غاصب صیہونی رژیم کے وزیراعظم اور وزیر جنگ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو جانے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ نے قانون لاگو ہونے میں رکاوٹیں ڈالیں اور اب تک یہ مجرم عدالت کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق عالمی قانونی نظام بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہے۔ 1972ء اور 1992ء میں کئی کانفرنسز کے انعقاد اور اسٹاک ہوم اور ریو بیانیوں کے بعد ماحولیات سے متعلق کچھ قوانین وضع ہوئے جن میں احتیاطی تدابیر اور اطلاع رسانی کا لازمی قرار پانا شامل ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین لاگو ہونے کی گارنٹی کے لحاظ سے ماحولیات سے متعلق قوانین سب سے زیادہ کمزور اور ناتوان ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ عالمی طاقتیں ماحولیات سے متعلق قوانین قبول کرنے پر ہی تیار نہیں ہیں۔
 
عالمی قانونی نظام کا زوال ظاہر کرتا ہے کہ مغربی لبرل ثقافت اور نظم و نسق انسانی ضروریات اور عالمی برادری کے انسانی حقوق پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ کام ایسے ممالک کو سنبھالنا چاہیے جن کی تاریخ امن پسندی، انسان دوستی، انصاف کے لیے آواز اٹھانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ایک نئے عالمی قانونی نظام کے تشکیل کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ممالک میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو ایک طرف اپنی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ اور ثقافت کی روشنی میں مظلوموں کا حامی اور ظالموں کا دشمن رہا ہے جبکہ دوسری طرف دین مبین اسلام کی اعلی تعلیمات کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت عدالت اور انصاف کی علمبردار ہے جو عیسائی محقق جورج جورداق کے بقول "انسانی عدالت کی آواز" اور "منصفانہ حکمرانی کا رول ماڈل" ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی انسانی حقوق عالمی قانونی نظام ماحولیات سے متعلق عالمی قانون لاگو ہونے کا شکار کے خلاف نظام کے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار