موجودہ ورلڈ آرڈر اور کمزور بین الاقوامی قانونی نظام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: عالمی قانونی نظام کا زوال ظاہر کرتا ہے کہ مغربی لبرل ثقافت اور نظم و نسق انسانی ضروریات اور عالمی برادری کے انسانی حقوق پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ کام ایسے ممالک کو سنبھالنا چاہیے جن کی تاریخ امن پسندی، انسان دوستی، انصاف کے لیے آواز اٹھانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ایک نئے عالمی قانونی نظام کے تشکیل کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ممالک میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو ایک طرف اپنی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ اور ثقافت کی روشنی میں مظلوموں کا حامی اور ظالموں کا دشمن رہا ہے جبکہ دوسری طرف دین مبین اسلام کی اعلی تعلیمات کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت عدالت اور انصاف کی علمبردار ہے جو عیسائی محقق جورج جورداق کے بقول "انسانی عدالت کی آواز" اور "منصفانہ حکمرانی کا رول ماڈل" ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر احمد کاظمی
تہران میں حال ہی میں "بین الاقوامی قانونی نظام یلغار کا شکار: جارحیت اور دفاع" کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس میں چار بنیادی موضوعات، عالمی قانونی نظام محاصرے کا شکار: قانون پر مبنی نظام سے ضوابط پر مبنی نظام تک، سفارت کاری سے غداری: امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، جوہری عدم پھیلاو خطرے کا شکار: غالب رویے اور نظریات اور خطے کے سیکورٹی حالات کا جائزہ: بنیادی عناصر اور فیصلہ کن اسباب، زیر بحث لائے گئے ہیں۔ اس کانفرنس میں ایک بار پھر عالمی قانون کے روایتی نظام کے زوال اور لاگو ہونے کی گارنٹی کے ساتھ نئے قانونی نظام کی برپایی کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عالمی قانونی نظام کے پانچ بنیادی عناصر ہیں: بین الاقوامی انسانی حقوق، انسان پسندانہ قوانین، فوجداری قوانین، ماحولیات سے متعلق قوانین اور تجارتی قوانین۔
ان عناصر کی روشنی میں دیکھا جائے تو گذشتہ سات عشروں، خاص طور پر گذشتہ چند سالوں کے دوران رونما ہونے والے عالمی حالات نے عالمی قانونی نظام کو انتہائی شدت سے کمزور کر کے زوال کی جانب گامزن کر دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق، جو انسانی حقوق کے عالمی منشور (1948ء کی تین دستاویزات اور 1966ء کے دو معاہدے) کے ذریعے تمام بنی نوع انسان کے لیے عالمی امن، مساوات، امتیازی سلوک کی نفی اور بین الاقوامی انصاف کے درپے تھا اس وقت خاص طور پر انسانی حقوق اور دہشت گردی سے متعلق دوغلے معیاروں، بعض عالمی طاقتوں کی جانب سے خارجہ سیاست میں خودمختار ممالک کا رویہ تبدیل کرنے کے لیے ظالمانہ پابندیوں کو سیاسی جبر کا ذریعہ بنائے، شمال اور جنوب میں عالمی دراڑ اور بعض مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ میں سسٹمٹک نسلی تعصب کے تسلسل کے باعث کمزور ترین پوزیشن میں پہنچ چکا ہے۔
غزہ، میانمار، سوڈان، قفقاز وغیرہ میں نسل کشی، موجود رہنے کے حق اور ثقافتی، مذہبی اور لسانی حقوق کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1992ء کے اعلامیے سمیت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق اعلی دستاویزات کے لاگو ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں پائی جاتی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق، عالمی قانونی نظام کا ایک اہم رکن ہے لیکن بین الاقوامی قانون کی پابندی کا عہد کرنے والوں کی جانب سے سب سے زیادہ خلاف ورزی اسی شعبے میں دیکھی جا رہی ہے۔ یہی گذشتہ پانچ برس میں ایسے پانچ بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں جو عالمی قانونی نظام کی دھجیاں اڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ان میں 7 اکتوبر 2023ء سے غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی، ایران پر تھونپی گئی 12 روزہ جنگ نیز ایران کی جوہری تنصیبات کی حفاظت میں آئی اے ای اے کی ناکامی، یوکرین جنگ، سوڈان میں انجام پانے والا افسوسناک قتل عام اور وینزویلا کے خلاف امریکہ کا جارحانہ رویہ شامل ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چند عالمی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور اس کا رویہ اقوام متحدہ کے منشور اور مثالی اہداف، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسان پسندانہ قوانین کے برعکس رہا ہے۔ اسی وجہ سے اب تک سلامتی کونسل نہ تو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی رکوا سکی ہے اور نہ ہی غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، اسپتال تباہ کرنے اور خواتین اور بچوں کا قتل عام کرنے سے روک سکی ہے۔ اگرچہ 2002ء میں عالمی فوجداری عدالت کے قیام کے بعد یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب عالمی سطح کے مجرم سزا سے بچ نہیں پائیں گے لیکن عالمی طاقتوں نے قانونی تحفظ کا غلط استعمال کرتے ہوئے جنگی مجرموں کو سزا پانے سے محفوظ رکھا۔
دوسری طرف عالمی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم ثابت ہو جانے کے بعد غاصب صیہونی رژیم کے وزیراعظم اور وزیر جنگ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو جانے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ نے قانون لاگو ہونے میں رکاوٹیں ڈالیں اور اب تک یہ مجرم عدالت کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق عالمی قانونی نظام بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہے۔ 1972ء اور 1992ء میں کئی کانفرنسز کے انعقاد اور اسٹاک ہوم اور ریو بیانیوں کے بعد ماحولیات سے متعلق کچھ قوانین وضع ہوئے جن میں احتیاطی تدابیر اور اطلاع رسانی کا لازمی قرار پانا شامل ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین لاگو ہونے کی گارنٹی کے لحاظ سے ماحولیات سے متعلق قوانین سب سے زیادہ کمزور اور ناتوان ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ عالمی طاقتیں ماحولیات سے متعلق قوانین قبول کرنے پر ہی تیار نہیں ہیں۔
عالمی قانونی نظام کا زوال ظاہر کرتا ہے کہ مغربی لبرل ثقافت اور نظم و نسق انسانی ضروریات اور عالمی برادری کے انسانی حقوق پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ کام ایسے ممالک کو سنبھالنا چاہیے جن کی تاریخ امن پسندی، انسان دوستی، انصاف کے لیے آواز اٹھانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ایک نئے عالمی قانونی نظام کے تشکیل کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ممالک میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو ایک طرف اپنی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ اور ثقافت کی روشنی میں مظلوموں کا حامی اور ظالموں کا دشمن رہا ہے جبکہ دوسری طرف دین مبین اسلام کی اعلی تعلیمات کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت عدالت اور انصاف کی علمبردار ہے جو عیسائی محقق جورج جورداق کے بقول "انسانی عدالت کی آواز" اور "منصفانہ حکمرانی کا رول ماڈل" ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی انسانی حقوق عالمی قانونی نظام ماحولیات سے متعلق عالمی قانون لاگو ہونے کا شکار کے خلاف نظام کے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔