پیپلز پارٹی سندھ میں کسی اور صوبے کے قیام کے مطالبے کو مسترد کرتی ہے، کمیل حیدر شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو کے دوران چیئرمین ضلع کونسل سکھر نے کہا کہ متحدہ کے رہنما وفاق سے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں اور ان کے فنڈز کے بارے میں بات کرتے تو عوامی مفاد میں ہوتا، مگر بدقسمتی سے ان کا پُرانہ وطیرہ اور تربیت ہی بول رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں کسی اور صوبے کے قیام کے مطالبے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والوں کے پیٹ میں "صوبے" کا پْرانہ درد آج بھی ویسا ہی ہے، لیکن بہتر ہوتا کہ وہ سندھ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھاتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ذرائع ابلاغ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ کے رہنما وفاق سے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں اور ان کے فنڈز کے بارے میں بات کرتے تو عوامی مفاد میں ہوتا، مگر بدقسمتی سے ان کا پُرانہ وطیرہ اور تربیت ہی بول رہی ہے۔ کمیل حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر بھی سندھ میں نیا صوبہ نہیں بن سکتا، پیپلز پارٹی صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے، شہری اور دیہی علاقوں میں بلاتفریق ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ترقیاتی کام اور صوبے کی تیز رفتار ترقی متحدہ کو ہضم نہیں ہو رہی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کی ترقی کا جو وڑن دیا ہے، وہ ایم کیو ایم کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔