وزیر داخلہ سندھ عوام کو بتائیں کہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کے پیچھے کونسا ملک ہے، شیعہ علماء و ذاکرین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
کراچی میں عادل حسین، محمد حیدر اور شبیر قاسم کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں شیعہ علماء و ذاکرین نے کہا کہ ہم حکام بالاکو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر شہر میں کوئی مارا جاتا ہے تو کسی کے پریشر دباؤ دھونس اور دھمکی میں آکر کسی مکتب اور مسلک کا میڈیا ٹرائل کرنا یہ قابل قبول نہیں ہے، اس پر کراچی میں بسنے والے لاکھوں اہل بیتؑ کے ماننے والے شیعوں کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں حالیہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے تناظر میں شیعہ علماء و ذاکرین نے کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو دوبارہ دہشت گردی اور بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ پریس کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ سید ناظر عباس تقوی، جعفریہ الائنس کے سینئر نائب صدر علامہ نثار احمد قلندری، مرکزی تنظیم عزاداری کے سربراہ ایس ایم نقی، ہیئت آئمہ مساجد امامیہ پاکستان کے علامہ مرزا طاہر علی حبیب اور آئی ایس او کراچی کے جنرل سید حسن سمیت دیگر علماء نے خطاب کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے شہر کراچی دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا اور یہ صورتحال تھی کہ کراچی کے اندر بے گناہ آٹھ سے دس افراد کا خون بہایا جاتا تھا، اسی صورتحال کے اندر بڑی محنتوں اور کوششوں اور بردباری کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے علماء کرام اور ریاست پاکستان نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں شہر کراچی میں امن و امان کی فضا بہتر ہوئی اور یہ شہر امن کا گہوارہ بنا، مگر اب لگتا ایسا ہے کہ حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں اس شہر کو دوبارہ بدامنی اور دہشت گردی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، ہمارے درمیان مثالی اتحاد موجود ہے، تمام مسالک اور تمام فرقے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں لیکن چند شر پسند تکفیری ٹولے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس شہر بلکہ ملک بھر میں دہشت گردی کی مجرمانہ کاروائیوں میں ملوث بھی ہیں اور مطلوب بھی ہیں۔ شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ اس وقت یہ ملک جس حساس ترین حالات سے گزر رہا ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں کبھی پاکستان کو یہ حالات درپیش نہ ہوں، پاکستان جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ان حالات میں پاکستان کسی بھی دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا، ایک طرف بھارت پاکستان پر جارحیت کے لیے پر تول رہا ہے تو دوسری جانب ٹی ٹی پی اور افغانستان پاکستان کے امن کو خراب کرنے کے لیے اپنی سازشوں سے ملک کے امن کو خراب کر رہے ہیں، ایسے حالات میں کراچی جیسے شہر میں اگر دہشت گردی کا مسئلہ ہوتا ہے تو نہ صرف یہ شہر کراچی بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے، ہمیں چاہیے کہ بردباری اور تحمل سے کام لیتے ہوئے وہ دہشت گرد عناصر جو اس ملک اور شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کریں۔
شیعہ علماء و ذاکرین نے کہا کہ ہم حکام بالاکو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر شہر میں کوئی مارا جاتا ہے تو کسی کے پریشر دباؤ دھونس اور دھمکی میں آکر کسی مکتب اور مسلک کا میڈیا ٹرائل کرنا یہ قابل قبول نہیں ہے، اس پر کراچی میں بسنے والے لاکھوں اہل بیتؑ کے ماننے والے شیعوں کے تحفظات پائے جاتے ہیں، گزشتہ دنوں کراچی میں قتل ہونے والے لوگوں پر وزیر داخلہ سندھ اور پولیس کے افسران نے جو پریس کانفرنس کرکے ایک مسلک اور مکتب پر جو الزامات لگائے یہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے، گزشتہ ایک ماہ میں ہمارے تین جوان عادل حسین، محمد حیدر اور شبیر قاسم کو شہید کیا گیا اور درجنوں کے قریب ہمارے جوانوں کو گرفتار کیا گیا، کیا وزیر داخلہ یا کسی افسر نے بیٹھ کر یا پریس کانفرنس کرکے ان قاتلوں کو جو اس ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے بے نقاب کیا، کیا پریس کانفرنس کرکے یہ بتایا کہ ان دہشت گردوں کا تعلق کس جماعت اور کس گروہ سے تھا اور کون سا ملک اس کی پشت پناہی کر رہا تھا، یہ سب عوام کے سامنے لایا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے، کراچی میں ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد شیعہ آبادیوں میں پولیس نے چھاپے مار کر بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کیا، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بیلنس پالیسی کو ختم کر کے اصل مجرمان کو گرفتار کیا جائے اور بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیعہ علماء و ذاکرین پریس کانفرنس ٹارگٹ کلنگ چاہتے ہیں کراچی میں نے کہا کہ کیا جائے کے لیے رہا ہے ہیں کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔