5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں کی لسٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ڈھکوسلے کیس میں ڈھائی سال سے قید کر رکھا ہے اور اب آئی ایم ایف بتا رہا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوگئی۔
شہباز شریف کہتے تھے مجھے کرپشن کا ایک کیس بتا دیں، اب آئی ایم ایف کہتا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، بتائیں کن لوگوں سے ریکوری ہوئی؟ ان کے نام کیا ہیں؟ کون سی سزائیں ملیں؟ ہمیں لسٹ چاہیے۔
شہباز حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی کرپشن سے متعلق رپورٹ 3 ماہ تک چھپائے رکھنے کا انکشاف کرتے ہوئے زبیر عمر نے کہا کیوں حکومت تین ماہ تک رپورٹ دبا کر بیٹھی رہی؟ آئی ایم نے دباو¿ ڈالا تو رپورٹ پبلک ہوئی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف باہر ممالک میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ مجھے کرپشن کا ایک کیس بتا دیں، ابھی آئی ایم ایف کی رپورٹ میں آیا ہے 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، اڑھائی سال پہلے ایس آئی ایف سی بنایا گیا کہ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی مگر ایک بلین ڈالر بھی نہیں آئی۔
اب آئی ایم ایف رپورٹ نے کچا چٹھا کھول دیا کہ سرمایہ کاری تو کیا وہاں تو شفافیت بھی نہیں ہے، من پسند افراد کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہہ رہی ہے یہ لوگ ایسی پالیسی بناتے ہیں جس سے امیر اور زیادہ امیر اور غریب کو غریب رکھا جاتا ہے۔
سابق گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنے جھوٹے کیس میں ڈھائی سال سے جیل میں ڈال کر رکھا ہے جس کیس کی بنیاد نہیں ہے، عمران خان پر کرپشن کا جھوٹا الزام لگاکر جیل میں ڈالا ہے مگر 5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں پر مکمل خاموشی ہے۔
ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے آج مطالبہ کرتے ہیں کہ ان 5300 ارب کی کرپشن کرنے والوں کی لسٹ فراہم کی جائے، وہ اشرافیہ کون ہیں جنہوں نے اس ملک کو بے دردی سے لوٹا ہے، نیب نے بتایا 5300 ارب کی ریکوری کی، فہرست کہاں ہے؟ کس سے کی ہے؟ قومی خزانے میں 5300 ارب آئے تو گئے کہاں ہیں؟ لوٹنے والے کون تھے؟ کیا اِن کو ٹانگنا نہیں چاہییے؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کی کرپشن ارب کی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔